بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رفاہی ادارے کے انتظامیہ کا زیر کفالت افراد کی طرف سے زکات وصول کرنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے ایک ادارہ قائم کیا ہے، جس میں عقل سے معذور افراد کی کفالت کی جاتی ہے، ان میں نابالغ اور بالغ دونوں قسم کے افراد کی کفالت کی جاتی ہے، ان کے لیے کرایہ پر جگہ لی گئی ہے، اور ان کے کھانے پینے اور دوا کا انتظام کیا جاتا ہے، اور خدمت کے لیے اسٹاف  رکھا گیا ہے، انہیں تنخواہ دی جاتی ہے، اب تک یہ سب اخراجات نفلی صدقات سے ہوتے رہے، لیکن اب ادارے کو زکات کی رقم کی بھی ضرورت ہے۔

پوچھنا یہ ہے کہ زکات کی رقم زیرِ کفالت افراد کے لیے جمع کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

اور مذکورہ اخراجات میں زکات کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ 

اگر جمع اور خرچ کی جاسکتی ہے تو اس کا شرعی طریقہ کیا ہونا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ادارے کی انتظامیہ عقل سے معذور زیرِ کفالت افراد کی طرف سے زکات وصول نہیں کرسکتی، البتہ ان کے اولیاء اگر زکوۃ کے مستحق ہیں تو وہ خود یا اولیاء  کی اجازت سے ادارے کی انتظامیہ ان پر زکوۃ کی رقم خرچ کر سکتی ہے۔

 زکوۃ اور صدقات واجبہ کی رقم سے ملازمین کو تنخواہیں دینا جائز نہیں ہے، اس قسم کے امور( یعنی  جن میں کسی مستحق کو تملیک حاصل نہ ہو)  میں عطیات کی رقم خرچ کی جائے۔ یعنی ایسے مصارف کے لیے لوگوں کو ترغیب دے کر نفلی صدقات اور عام عطیات کی رقم استعمال کی جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"دفع الزكاة إلى صبيان أقاربه برسم عيد أو إلى مبشر أو مهدي الباكورة جاز.

(قوله: إلى صبيان أقاربه) أي العقلاء وإلا فلايصح إلا بالدفع إلى ولي الصغير."

(کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج:2، ص: 356، ط: سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."

(کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:170، ط:دار الفکر)

البحر الرائق میں ہے:

" (قوله: وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم ؛ لحديث البخاري: «نحن - أهل بيت - لا تحل لنا الصدقة»، ولحديث أبي داود: «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة."

(کتاب الزکاۃ، باب مصرف الزكاة، ج:2، ص:265، ط:دار الکتاب الإسلامی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) لا إلى (طفله) بخلاف ولده الكبير.

 (قوله: ولا إلى طفله) أي الغني فيصرف إلى البالغ ولو ذكرا صحيحا قهستاني، فأفاد أن المراد بالطفل غير البالغ ذكرا كان أو أنثى في عيال أبيه أولا على الأصح لما عنده أنه يعد غنيا بغناه نهر (قوله: بخلاف ولده الكبير) أي البالغ كما مر." 

(کتاب الزکوة، ج:2، ص: 349، ط:سعيد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144709101133

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں