
میری والدہ نےپانچ سال قبل میرےوالدسےطلاق کامطالبہ کیاتھااس پر میرےوالدنےدوطلاقیں دےدی تھیں ،پھرمیری والدہ نےکہیں اورشادی کرلی تھی ،میرےایک بھائی اورتین بہنیں میری والدہ کیساتھ رہنےلگےاورمیں اپنےوالدکیساتھ ہی رہااوران کی خدمت کرتارہا،میرےوالدکاانتقال ہوگیاہے،والدصاحب کی ریٹائرمنٹ کی رقم میرےنام پرہی آئےگی ۔
سوال یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کی رقم میں میرے بہن بھائیوں کا کوئی حق ہے یا نہیں؟ نیز مطلقہ والدہ کا بھی اس رقم میں کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
واضح رہےکہ رٹائرمنٹ کی رقم تبرع واحسان ہے،جس کےنام پرجاری ہو، وہی اس کامالک ہوتاہے،اس میں میراث جاری نہیں ہوتی ،لہذاصورت مسئولہ میں اگرمذکورہ رقم سائل کےنام جاری ہوگی تواس کامالک سائل ہی ہوگا،سائل کےبہن، بھائیوں اورمطلقہ والدہ کاا س میں کوئی حق نہیں ہے،البتہ اگرسائل اپنی رضامندی سےکچھ دیناچاہےتودیےسکتاہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث."
(کتاب الحدود، فصل في بيان صفات الحدود، ج: 7 ص: 57، ط: سعید)
امداد الفتاوی میں ہے:
"چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہیں تقسیم کردے۔"
( کتاب الفرائض،ج:4،ص:343 ،ط: دارالعلوم)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101613
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن