
میں پہلے ایک ریکروٹمنٹ/ہیڈ ہنٹنگ کمپنی میں کام کرتی تھی، یہ کمپنی دنیا بھر کی مختلف تنظیموں کے لیے سینئر لیول کے لوگ (جیسے CEO، CFO، COO وغیرہ) بھرتی کرتی تھی، کبھی کبھار یہ کمپنی شراب بنانے والی کمپنیوں اور بینکوں کے لیے بھی بھرتی کرتی تھی، لیکن میں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتی تھی کہ میں ایسے کسی پروجیکٹ پر کام نہ کروں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام میں سود لینا دینا حرام ہے، اسی وجہ سے میں پوری کوشش کرتی تھی کہ ایسے پروجیکٹس نہ لوں جن میں فنانس کے شعبے کے لوگوں کی بھرتی ہو، کیوں کہ یہ کمپنیاں عام طور پر غیر اسلامی ممالک میں ہوتی تھیں اور وہاں سود سے بچنا مشکل ہوتا ہے، اس کمپنی کی اچھی بات یہ تھی کہ وہاں زیادہ تر خواتین کام کرتی تھیں اور سب لوگ آپس میں اچھے اور پروفیشنل انداز میں بات کرتے تھے۔
اب میں ایک مقامی کمپنی میں کام کر رہی ہوں جو صرف ایک مسلم ملک کے اندر بھرتی کرتی ہے۔ یہاں کام کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ جن فنانس کی پوسٹس کے لیے میں لوگوں کو بھرتی کرتی ہوں، وہ سود سے متعلق نہیں ہوتیں۔ لیکن یہاں زیادہ تر مرد کام کرتے ہیں، اور اگرچہ لوگ دین دار لگتے ہیں، پھر بھی ماحول غیر سنجیدہ ہے۔ کچھ مرد بہت بے تکلف ہو جاتے ہیں، فحش یا نامناسب باتیں کرتے ہیں، جو مجھے بہت برا لگتا ہے اور میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہوں۔
اب میرا ایک انٹرویو ہے اُس کمپنی کی مقابل کمپنی میں جس میں ، میں پہلے کام کرتی تھی، اگر مجھے وہاں سے آفر ملی، تو میں پہلے کی طرح بینکوں یا شراب بنانے والی کمپنیوں کے لیے بھرتی نہیں کروں گی، لیکن میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا میرے لیے یہ جائز ہوگا کہ میں ریٹیل، FMCG، یا ٹیکنالوجی جیسی جائز کمپنیوں کے لیے فنانس کے لوگوں کو بھرتی کروں، حالاں کہ یہ کمپنیاں غیر اسلامی ممالک میں ہیں، اور ان کے فنانس کے لوگ ممکن ہے کہ سود سے متعلق کام کرتے ہوں؟
واضح رہے کہ ریکروٹمنٹ ( کسی کمپنی یا ادارے کے لیے ملازمین کا انتخاب اور تقرری) کا کام فی نفسہ جائز ہے، البتہ ایسے ادارے کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنا جن کا کام ہی شرعاً ناجائز اور حرام ہو یا ادارے کا بنیادی کاروبار تو جائز ہو، لیکن جس شخص کو بھرتی کیا جارہا ہو، اس کی ذمہ داری ناجائز اور حرام کام کی ہو اور ریکروٹمنٹ کمپنی کو اس کا علم بھی ہو تو یہ گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا، اسی طرح کسی ادارے کی حریف کمپنی ( Competitor) کو نقصان پہچانے کے لیے اس ادارے سے کسی ایسے اہم اور بنیادی شخص کی ہیڈہنٹگ کرنا جس سے ان کو نقصان ہو اور مقصد بھی نقصان پہچانا ہی ہو جسے عام طور پر اصطلاح میں "ٹیلنٹ پوچنگ" (Talent Poaching) بھی کہا جاتا ہے یہ بھی غیر اخلاقی عمل ہے اور مکروہ ہے، اس لیے ریکروٹمنٹ کمپنی کو جان بوجھ کر ایسے کام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ ادارہ ( جس سے سائلہ کو کام کی آفر آئی ہے) کی غالب آمدنی حلال ہے اور سائلہ بھی اس میں صرف جائز کاموں کے پراجیکٹ کرے گی تو ایسے کمپنی میں کام کرنا جائز ہوگا۔
باقی اگر کسی جائز کاروبار کرنے والے کمپنی کے لیے کسی ایسے شعبہ کے لوگوں کو بھرتی کیا جائے جس میں جائز اور ناجائز کام دونوں کا احتمال ہے (مثلاً فناس کے ڈپارٹ کے لیے) تو محض شک یا احتمال کی وجہ سے یہ ناجائز نہیں ہوگا، جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ جس کو بھرتی کیا جارہا ہے اس کی ذمہ داری صرف حرام کام کی ہوگی ۔
قرآن کریم میں ہے :
﴿ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ [المائدة: 2]
ترجمہ: "اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔" (از بیان القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب في أجرة الدلال ، قال في التتارخانية : وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل ، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم .وفي الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال : أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً؛ لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."
(كتاب الإجارة،مطلب في أجرة الدلال، 63/6، ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط."
(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا و الضيافات، 5/ 343، ط:رشيدية)
امدادالفتاویٰ میں ہے:
’’جن کی آمدنی بالکل حرام خالص ہے جیسے مے فروش یا سود خوروغیرہ ان کی نوکری کرنا ناجائز ہے اور جو تنخواہ اس میں سے ملتی ہو وہ حلال نہیں ہے ‘‘۔
(امدادالفتاویٰ، ج:3، ص:377، ط: رشیدیہ)
جواہر الفقہ میں ہے:
"ثم السبب إن كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية فالتسبب فيه حرام كالإعانة على المعصیة بنص القران كقوله تعالى: " لاتسبوا الذين يدعون من دون الله "، وقوله تعالى " فلا يخضعن بالقول "، وقوله تعالى " لا تبرجن " الآية، وإن لم يكن محرکا و داعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من أهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذه خمرا وبيع الأمرد ممن يعصي به وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر و يتخذها كنيسة أو بيت نار و أمثالها، فكله مكروه تحريما بشرط أن يعلم به البائع والأجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم كان داخلا في الإعانة المحرمة،وإن كان سببا بعيدا بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها فتكره تنزيها."
(تفصيل الكلام في مسئلة الإعانة على الحرام، 2،/ 439 - 453، ط: مكتبة دارالعلوم)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100725
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن