بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رئیل اسٹیٹ یا بروکر کا مشتری کو کوئی جگہ یا مکان دکھانے کے بعد سودا نہ ہونے کی صورت میں اجرت لینے کاحکم


سوال

ہمارا رئیل اسٹیٹ کا کام ہے ، ہمارے کام میں اصول یہ ہوتا ہے کہ ہم جس پارٹی کو کوئی گھر یا جگہ وغیرہ دکھاتے ہیں اور بعد میں اس جگہ کو وہ پارٹی پسند کرلے تو اس پر ہمیں کمیشن ملتا ہے، جو کہ عموماً ایک فیصد ہوتا ہے ، البتہ اگر ہمارے اور پارٹی کے درمیان باہمی رضا مندی سے ایک فیصد سے بھی کم  طے ہوجائے تو پھر وہ کم کمیشن ہی ملتا ہے ۔

اب مسئلہ یہ پیش  آیا کہ ایک پارٹی نے ہم سے بروکر کے ذریعے ایک بنگلہ دیکھا ، ہم لوگوں نے انہیں با قاعدہ وہاں لے جا کر پورے بنگلے کا وزٹ  کروایا، اور محل وقوع کی مکمل معلومات بھی انہیں فراہم کیں ،  اس کے بعد اس خریدار پارٹی نے یہ دیکھا کہ مالک مکان سے ان کی واقفیت ہے تو انہوں نے براہ ر است مالک مکان سے سودا کر لیا اور ہمارے بارے میں کوئی ذکر نہیں  کیا بلکہ یہاں تک کہا کہ ہم نے پہلے یہ گھر نہیں دیکھا ، جبکہ ہم انہیں گھر کا وزٹ کروا چکے تھے۔

چنانچہ اپنے تعلقات کی بنیاد پر  نیز ہمارے کمیشن کو درمیان سےکاٹ کر  انہوں نے قیمت کم کروا کر مکان خرید لیا ۔ اب خریدارکی طرف سے الگ برو کر تھے ،اور بیچنے والے کی طرف سے الگ برو کر تھے۔خریدار نے اپنے بروکر کو کمیشن دیا ہے  اور ہمارا ذکر تک نہیں کیا ،چونکہ بیچنے والے کے سامنے ہمارا ذکر تک نہیں کیا گیا ،چناچہ وہ ہمیں کوئی کمیشن نہیں دے رہے ۔

اب موجودہ صورتحال میں خریدار پارٹی نے بیچنے والے کے سامنے غلط بیانی کی ہے ، پو چھنا یہ ہے کہ اس صورتحال میں ہمارا کمیشن بنتا ہے یا نہیں ؟ اگر بنتا ہے تو یہ کمیشن ادا کرنا کس کے ذمے ہو گا ؟ جبکہ یہ غلط بیانی خریدار کی جانب سے پائی گئی ہے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں رئیل اسٹیٹ (پراپرٹی ڈیلر)نے   بروکر کے ذریعہ خریدارپارٹی کوصرف بنگلے کا وزٹ کروایا ، لیکن اس وقت معاملات طے نہ ہونے کی وجہ سے  سودا نہیں ہوا  تو  اس صورت میں بروکراور پراپرٹی ڈیلر  کمیشن کا مستحق نہیں ہو گا، البتہ اگر عرف میں  رئیل اسٹیٹ( پراپرٹی ڈیلر )کے   بیچنے  اور خریدنے والے کو ملانے  اور رابطہ کروانے یا صرف جگہ دکھانے  پر بھی  کچھ کمیشن دیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں  وزٹ کروانے والا اپنے عمل کے بقدر  جس پارٹی سے کمیشن کی بات طے ہوئی ہو، اس سے مقررہ کمیشن لینے کا حق دار ہوگا۔

یہ ملحوظ رہے کہ اگر خریدنے اور بیچنے والے  جان بوجھ کر کمیشن  سے بچنے کے لیے   مذکورہ کام (کہ بروکر کو کاٹ کر براہ راست معاملہ طے کرنا)بطور حیلہ کررہے ہوں تو یہ دھوکہ دہی اور بروکر کی حق تلفی  ہے  جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوں گے۔

فتاوی ٰ شامی  میں ہے:

"(قوله: والسمسار) هو المتوسط بين البائع والمشتري بأجر من غير أن يستأجر."

(فصل فی المتفرقات فی المضاربة، ج:5،ص:656،ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"(و لايستحق ‌المشترك ‌الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه) كفتال و حمال و دلال و ملاح."

(باب ضمان الاجیر،ج:6،ص:64،ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.

(قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."

 ( كتاب البيوع،فرع ظهر بعد نقد الصراف أن الدراهم زيوف، ج :4،ص:560،ط : سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102071

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں