بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1448ھ 20 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کے لیے کمیشن اور زائد رقم لینے کا شرعی حکم


سوال

میں DHA کراچی میں بطور ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کام کرتا ہوں۔ ہمارا کام ڈیل یعنی سودا کرنا ہوتا ہے اور اس میں ملنے والا کمیشن ہمیں آدھا آفس میں جمع کرانا ہوتا ہے آدھا خود رکھنا ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں مارکیٹ میں ڈیل کے بعد کمیشن کی مختلف صورتیں ہیں۔

1: ایجنٹ پراپرٹی مالک سے طے کرتا ہے کہ آپ کی مقرر کردہ قیمت سے جتنی رقم اوپر طے گی وہ میری ہوگی۔ یہی آفر بعض اوقات مالک خود بھی دیتا ہے۔

2: مالک کہتا ہے اگر میری مقررہ قیمت پر سودا ہوا تو میں آپ کو کمیشن دوں گا۔ زیادہ میں سودا کیا تو زائد رقم آپ کی ہوگی۔

3: بعض اوقات مالک کہتا ہے کہ میری مقررہ قیمت فلاں ہے (مثلا 20 کروڑ روپے ہے)۔ آپ پارٹی لے آئیں جتنی رقم اوپر رکھیں گے مجھے بتادیں تاکہ اس حساب سے ڈیل بنا کر آپ کو آپ کا حصہ دے دوں۔

4: بعض اوقات مالک اسٹیٹ ایجنٹ پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی پراپرٹی اس کے حوالے کرتا ہے اور اسٹیٹ ایجنٹ دوسرے ایجنٹس سے کہتا ہے کہ آپ پارٹی لے آئیں میں آپ کے پیسے نکال دوں گا (یعنی کمیشن کے علاوہ زائد رقم آپ کو ملے گی)۔ بعض اوقات اس معاملے سے اصل مالک اور خریدار دونوں بے خبر ہوتے ہیں۔

5: بعض اوقات ڈیل میں ٹاپ رکھا جاتا ہے (مالک کی موجودہ رقم سے کچھ رقم اوپر رکھ کر ڈیل کی جاتی ہے) اس معاملے میں بھی اصل مالک اور خریدار دونوں بے خبر رہتے ہیں۔

6: بعض اوقات مالک مکمل کمیشن (جو ڈیل کا ایک فیصد بنتا ہے) نہیں دیتے بعض اوقات خریدار بھی ایسا کرتے ہیں اس صورت میں ایجنٹ کو مجبورا ٹاپ رکھنا پڑتا ہے۔

ان تمام صورتوں میں کون سی صورت جائز ہے اور کون سی ناجائز؟

اور آیا زائد رقم کمیشن کے علاوہ فیس ہے اس میں مالک کے علاوہ خریدار کو بھی علم ہونا چاہیے؟

خریدار کے علم میں بات آئے گی تو وہ کمیشن نہیں دے گا یا بعض اوقات ڈیل بھی ختم ہو سکتی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ دلالی اور کمیشن کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ کمیشن کی مقدار معلوم اور متعین ہو یا عرف کے اعتبار سے اس کا سودے کی قیمت میں ایک یا دو فیصد مقرر ہو۔ مذکورہ صورتوں کا شرعی حکم درج ذیل ہے:

1۔ اگر مالک نے اپنی مقررہ قیمت بتا کر یہ اجازت دی ہو کہ اس سے جتنی زائد رقم پر پراپرٹی فروخت کرو گے وہ تمہاری ہوگی، اور سودے کے بعد مالک کو علم بھی ہو کہ سودا کتنے میں ہوا ہے اور اس کے بعد بھی وہ زائد رقم دینے پر راضی ہو تو مالک کی رضامندی کی وجہ سے زائد رقم اپنے لیے لینا جائز ہے۔

2۔ اگر مالک نے یہ کہا ہو کہ میری مقررہ قیمت پر سودا کرنے کی صورت میں اتنا کمیشن ملے گا اور اس سے زائد قیمت پر سودا ہونے کی صورت میں زائد رقم تمہاری ہوگی، تو اوپر ذکر کردہ تفصیل کے ساتھ مالک کی اجازت کی وجہ سے یہ صورت بھی جائز ہے۔

3۔ اگر مالک نے مثلاً 20 کروڑ روپے اپنی مطلوبہ قیمت مقرر کی اور ایجنٹ کو اجازت دی کہ اس سے زائد جتنی رقم میں سودا کرو، اس کی اطلاع دے کر اس میں سے اپنا حصہ لے سکتے ہو، اور سودے کے بعد بھی مالک اس پر راضی ہو تو مالک کی رضامندی کے ساتھ یہ صورت بھی جائز ہے۔

4۔ اگر مالک نے ایجنٹ کو پراپرٹی فروخت کرنے کا اختیار دیا اور ایجنٹ نے دوسرے ایجنٹ کو خریدار لانے پر زائد رقم دینے کا معاملہ کیا تو اگر مالک نے اس کی اجازت دی ہو یا وہ رقم ایجنٹ کی اپنی طے شدہ اجرت میں سے ہو تو جائز ہے، لیکن مالک کی اجازت کے بغیر خریدار سے رابطے کی قیمت میں اضافہ کر کے زائد رقم خود رکھنا یا دوسرے ایجنٹ کو دینا جائز نہیں، خصوصاً جبکہ مالک اس سے بے خبر ہو۔

5۔اگر ٹاپ رکھنے سے مراد یہ ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر اس کی مقررہ قیمت سے زائد رقم خریدار سے لے کر اپنے پاس رکھی جائے تو جائز نہیں۔

6۔ مالک یا خریدار کی طرف سے ادا کمیشن مکمل ادا نہ ہونے کے احتمال کی وجہ سے خفیہ طور پر زائد رقم رکھ کر دوسرے فریق سے اپنی کمی پوری کرنا جائز نہیں، بلکہ جس فریق سے کمیشن طے ہوا ہے، اسی سے اپنے طے شدہ کمیشن کی تکمیل کا مطالبہ کیا جائے۔

7۔ اگر ایجنٹ خریدار کی طرف سے بھی سودا کرنے کے لیے مقرر ہے تو اس کے لیے خریدار سے حقیقت چھپا کر زائد رقم وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔ ہاں، اگر خریدار سے کمیشن کا معاملہ نہ ہو اور دلال صرف بیچنے والے کی نمائندگی کرے تو قیمت کی کمی زیادتی کا علم خریدار کو ہونا ضروری نہیں ہے، صرف مالک یعنی بیچنے والے کی اجازت کافی ہے۔

لہٰذا عملی طور پر ایجنٹ کے لیے بہتر اور محتاط طریقہ یہ ہے کہ مالک کے ساتھ شروع ہی میں کمیشن یا مقررہ قیمت سے زائد رقم میں فروخت کا طریقہ واضح طور پر طے کر لے، تاکہ بعد میں کسی فریق کے حق میں خیانت یا نزاع کی صورت پیدا نہ ہو۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.

(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية. وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."

(كتاب البيوع، فروع في البيع، ج:4،ص:560، ط: سعيد)

وفیہ ایضا:

"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]؛قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، و ما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدًا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."

(کتاب الاجارۃ،باب الاجارۃ الفاسدۃ،ج:6،ص:63،ط:سعید)

العقود الدرية  فی تنقیح الفتاوی حامدیہ میں ہے:

"الدلال إذا باع العين بنفسه، ثم أراد أن يأخذ من المشتري الدلالة ليس له ذلك؛ لأنه هو العاقد حقيقة، وتجب على البائع الدلالة؛ لأنه فعل بأمر البائع. ثم قال: ولو سعى الدلال بينهما، وباع المالك بنفسه يضاف إلى العرف، إن كانت الدلالة على البائع فعليه، وإن كانت على المشتري فعليه، وإن كانت عليهما فعليهما."

(کتاب البیوع ،ج:1،ص؛247،ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144802102230

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں