بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بھانجی سے نکاح کا حکم


سوال

 بچپن میں میری پھوپھو کی بیٹی نے  میری والدہ کا دودھ پیا تھا۔ شروع میں میری والدہ کو بالکل یاد نہیں تھا کہ انہوں نے کبھی اسے دودھ پلایا ہو۔ بعد میں جب اس بارے میں بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ دودھ پلایا تھا،پہلے میری والدہ کو یہ علم نہیں تھا کہ میں اسی خاندان میں نکاح کرنا چاہتی ہوں، اس لیے وہ عمومی طور پر یہی کہتی رہی کہ دودھ کا ایک قطرہ بھی پینے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، اس لیے وہاں رشتہ نہیں ہو سکتا۔ دراصل سسرالی مسائل کی وجہ سے ان کا اس خاندان میں رشتہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ بعد میں جب اس مسئلے پر تفصیل سے بات ہوئی تو مدتِ رضاعت کے بارے میں میری والدہ کے بیانات مختلف رہے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ بچی کو ایک سال تک دودھ پلایا ، پھر کہا کہ چھ ماہ تک پلایا، اور آخر میں دو مہینے کا کہہ کر حلف بھی لے لی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ انہیں یقینی طور پر یاد نہیں کہ بچی نے کتنی مرتبہ دودھ پیا تھا۔ جبکہ میری پھوپھو کا کہنا ہے کہ بچی کو صرف ایک مرتبہ یا زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ دودھ پلایا گیا تھا، اس سے زیادہ نہیں۔  رضاعت کی تعداد (کتنی مرتبہ دودھ پیا) یقینی طور پر معلوم نہیں۔ اب اس پھوپھو کی بیٹی کا بیٹا اور میں نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ اس صور ت میں جب رضاعت کی تعداد بھی غیر یقینی ہو اور مدت کے بارے میں بھی واضح علم نہ ہو، تو کیا ایسی حالت میں شرعاً رضاعت ثابت ہو جاتی ہے؟ اور کیا ہمارا نکاح جائز ہوگا؟ 

جواب

رضاعت کے ثبوت کے لیے مدت رضاعت (دو سال )کے دوران ایک مرتبہ چند قطرے دودھ پلادینا شرعا کافی ہے، مسلسل کئی ماہ تک دودھ پلاناثبوت رضاعت کے لیے شرعا ضروری نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کی والدہ نے جس  بچی کو دودھ پلایا تھا، وہ بچی رضاعی بیٹی بن گئی تھی، پس مذکورہ لڑکی کی اولاد میں سے کسی سے سائلہ یا اس کے دیگر بھائی بہنوں کا نکاح حلال نہیں، کیوں کہ مذکورہ رضاعی بہن کی اولاد سائلہ اور اس کے بھائی بہنوں کےرضاعی بھانجے بھانجیاں ہیں، جس طرح حقیقی بھانجے بھانجیوں سے نکاح حرام ہے، رضاعی بھانجے بھانجیوں سے بھی نکاح حرام ہے، البتہ مذکورہ پھوپھی کی دیگر اولاد جنہوں نے سائلہ کی والدہ کا دودھ نہ پیا ہو ان سے یا ان کی اولاد سے سائلہ اور اس کے بھائی بہنوں کے لیے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ 

فتح القدیر میں ہے:

"قال (قليل الرضاع وكثيره سواء إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم) وفي الشرع: مص الرضيع اللبن من ثدي الآدمية في وقت مخصوص أي مدة الرضاع المختلف في تقديرها (قوله قليل الرضاع وكثيره سواء إذا تحقق في مدة الرضاع تعلق به التحريم)."

(كتاب الرضاع، ج: 3، ص: 438، ط: دار الفكر)

الفتاوی الہندیہ میں ہے:

"يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة۔

(كتاب الرضاع، ج: 1، ص: 343،344، ط: دارالفكر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144709101721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں