
ہمارے یہاں ایک نکاح ہوا،اور نکاح کے بعد معلوم ہواکہ لڑکی نے شوہر کے رضاعی بھائی کی بیوی کا دودھ پیا ہے۔
وضاحت:زید نے عمرو کی والدہ کا دودھ پیا ہےاور فاطمہ نے عمرو کی بیوی کا دودھ پیاہے،بعد میں زید کا نکاح فاطمہ سے ہوا لاعملی میں،تو اب ا س نکاح کا کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں فاطمہ نے جب زید کے رضاعی بھائی عمرو کی بیوی کا دودھ پیا تو فاطمہ ،عمرو کی رضاعی بیٹی بن گئی ،اور زید کی رضاعی بھتیجی ہوئی ،لہذا جس طرح حقیقی بھتیجی سے نکاح حرام ہے،اسی طرح رضاعی بھتیجی کے ساتھ بھی نکاح حرام ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں زید کا نکاح فاطمہ سے رضاعی بھتیجی ہونے کی وجہ سے جائز نہ تھا،تاہم جب لاعلمی میں نکاح ہوگیا ہے تو رضاعت ثابت ہوجانے کے بعد دونوں درمیان تفریق ضروری ہے،اور زید اپنی طرف سےساتھ میں یہ الفاظ بھی کہہ دے کہ میں نے تجھے چھوڑ دیا ،اور اگر اس نکاح سے کوئی اولاد ہو تو وہ ثابت النسب ہوگی،اور عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب)."
(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:3، ص:213، ط:سعید)
فتح القدیر میں ہے:
"ولبن الفحل يتعلق به التحريم، وهو أن ترضع المرأة صبية فتحرم هذه الصبية على زوجها وعلى آبائه وأبنائه ويصير الزوج الذي نزل لها منه اللبن أبا للمرضعة"
"قوله ولبن الفحل) هو من إضافة الشيء إلى سببه (يتعلق به التحريم) يعني اللبن الذي نزل من المرأة بسبب ولادتها من رجل زوج أو سيد يتعلق به التحريم بين من أرضعته وبين ذلك الرجل بأن يكون أبا للرضيع،فلا تحل له إن كانت صبية؛ لأنه أبوها ولا لإخوته؛ لأنهم أعمامها ولا لآبائه؛ لأنهم أجدادها ولا لأعمامه؛ لأنهم أعمام الأب ولا لأولاده وإن كانوا من غير المرضعة؛ لأنهم إخوتها لأبيها ولا لأبناء أولاده؛ لأن الصبية عمتهم."
(کتاب الرضاع، ج:3، ص:448، ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"أن النكاح لا يرتفع بحرمة الرضاع والمصاهرة بل يفسد، حتى لو وطئها قبل التفريق لا يجب عليه الحد اشتبه الأمر أو لم يشتبه نص عليه في الأصل وفي الفاسد لا بد من تفريق القاضي أو المتاركة بالقول في المدخول بها، وفي غيرها يكتفى بالمفارقة بالأبدان."
(كتاب النكاح،باب الرضاع،ج:3،ص:225،ط:دار الفكر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما النكاح الفاسد، فلا حكم له قبل الدخول، وأما بعد الدخول، فيتعلق به أحكام منها ثبوت النسب ومنها وجوب العدة، وهو حكم الدخول في الحقيقة ومنها وجوب المهر."
(كتاب النكاح،فصل حكم النكاح الفاسد، ج:2، ص:335، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101314
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن