بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی چچا اور بھتیجی اور رضاعی پھوپھی اور بھتیجے کے نکاح کا حکم


سوال

سائل کی والدہ نے اپنے پوتوں اور پوتیوں کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جن پوتوں یا پوتیوں نے دادی کا دودھ نہیں پیا ہے ان کا نکاح ان پوتوں یا پوتیوں سے درست ہے جنہوں نے دادی کا دودھ پیا ہے یا درست نہیں ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں جن پوتوں یا پوتیوں نے مدت رضاعت میں دادی کا دودھ پیا ہے ان کا نکاح ان پوتوں اور پوتیوں  سے نہیں ہوسکتا جنہوں نے دادی کا دودھ نہیں پیا کیونکہ دودھ پینے والا پوتا دودھ نہ پینے والی پوتی کا رضاعی چچا ہے اور دودھ پینے والی پوتی دودھ نہ پینے والے پوتے کی رضاعی پھوپھی ہے، اور شرعاً جس طرح حقیقی چچا اور حقیقی پھوپھی کے ساتھ نکاح جائز نہیں اسی طرح رضاعی چچا اور رضاعی پھوپھی کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں، لہذا ان کا باہم نکاح درست نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة."

(کتاب الرضاع، ج:1،ص:343،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102334

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں