
ایک عورت (مثلاً عائشہ) نے اپنے دیور کے بچے (زید) کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا ہے،اب زید کا عائشہ (رضاعی ماں) کی بچیوں کے ساتھ نکاح کا کیا حکم ہے؟
نیز زید کے دیگر بھائی اوربہنوں کا عائشہ کے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟
قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں زید چوں کہ عائشہ کا رضاعی بیٹا ہے، اور عائشہ کی اولاد کا رضاعی بھائی ہے، لہذا زید کا عائشہ کی کسی بیٹی، یا عائشہ کی بیٹی ونواسی سے نکاح حلال نہیں ہوگا، کیوں کہ جس طرح حقیقی بہن اور حقیقی بھانجی ، بھتیجی سے نکاح حرام ہے، اسی طرح رضاعی بہن اور رضاعی بھانجی، و رضاعی بھتیجی سے بھی حرام ہے،البتہ زید کے دیگر بھائی اور بہن(جنہوں نے عائشہ کا دودھ نہیں پیا) کا نکاح عائشہ کے بچوں کے ساتھ شرعا جائز ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
"وَأُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِي أَرضَعنَكُم وَأَخَوٰتُكُم مِّنَ الرَّضٰعَةِ ".[النساء: 23]
ترجمہ:”اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری وہ بہنیں جو دودھ پینے کی وجہ سے ہیں (تم پر حرام کی گئی ہیں)۔“ (بیان القرآن)
مشكاۃ المصابيح میں ہے:
"وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة. رواه البخاري."
(كتاب النكاح، باب المحرمات، الفصل الأول، ج: 2، ص: 945، رقم الحديث: 3161، ط: المکتبة الإسلامي بیروت)
ترجمہ:”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:رضاعت (دودھ پلانے) کے ذریعے وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب (ولادت) کے ذریعے حرام ہوتے ہیں۔“ (بخاری)
فتاوی شامی میں ہے:
"(فيحرم منه) أي بسببه ما يحرم من النسب."
(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج: 3، ص: 213، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100129
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن