
سائل کی بیوی اور ان کے بھائی کی بیوی آپس میں بہنیں ہیں ،بھائی کی بیوی نے اپنا ایک بیٹا سائل کی بیوی کو دے دیا ہے،جس نے سائل کی بیوی کا دودھ مدت رضاعت میں پیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ سائل کی بیٹی کا نکاح اس کے بھائی کے دوسرے بیٹے سے کرنا درست ہے یا نہیں؟نیز سائل کے بھائی کے اُس بیٹے نے سائل کی بیوی کا دودھ نہیں پیا ہے،بلکہ اس کے دوسرے بھائی نے پیا ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل کا مذکورہ بھانجا سائل کا رضاعی بیٹا ہےاور سائل کی دیگر اولادکا رضاعی بھائی ہے،یہ سب آپس میں رضاعی بھائی بہن ہیں اور ان کا آپس میں نکاح کرنا شرعا جائز نہیں ہے،البتہ رضاعی بیٹے کے دیگرحقیقی بھائی(جن کا سائل اور اس کی بیوی سے رضاعی رشتہ نہیں ہے) کا سائل کی بیٹی سے نکاح کرنا شرعا جائز ہے۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"(وتحل أخت أخيه رضاعاً) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعاً أخت نسباً وبهما وهو ظاهر."
(کتاب النکاح،باب الرضاع،ج3،ص217،ط؛سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102332
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن