
میں نے اپنے بچپن میں دو سال کی عمر میں اپنی ساس کا دودھ پیا ہے، اسی طرح میری والدہ نے بھی میری بیوی کی بڑی بہن کو ان کے دودھ پینے کے زمانہ میں دودھ پلایا، اس کے باوجود ہم دونوں کا نکاح کیا گیا ہے، جب کہ اس پر گواہ موجود ہیں کہ میری ساس نے مجھے دودھ پلایا ہے اور میں خود بھی اس کی تصدیق کرتا ہوں اور اب ہمارے نکاح کو چھ سال ہوچکے ہیں، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ہے، کیا ہمارا نکاح درست ہے؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میری ساس سسر کہتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائل نے دو سال کی عمر میں اپنی ساس کا دودھ پیا تھا ، اور اس پر شرعی گواہ بھی موجود ہیں اور خود سائل بھی اس کی تصدیق کرتا ہے تو ایسی صورت میں حرمتِ رضاعت ثابت ہوگئی تھی اور سائل اپنی ساس کا رضاعی بیٹا بن گیا تھا، اور جس طرح نسبی بہن سے نکاح جائز نہیں ہے ، اسی طرح رضاعی بہن سے بھی نکاح جائز نہیں تھا،لہذا یہ نکاح شرعا معتبر نہیں ہی نہیں ہوا تھا لہذا رخصتی جائز نہیں ہوگی۔ اگر نکاح نامہ وغیرہ پر کیا گیاتو تحریری طور پر نکاح ختم کرنے کے لیے سائل تحریری طور پر طلاق نامہ دے دے تا کہ بعد میں کوئی قانونی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع و أصولهما و فروعهما من النسب و الرضاع جميعًا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعًا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعًا فالكل إخوة الرضيع و أخواته و أولادهم أولاد إخوته و أخواته و أخو الرجل عمه و أخته عمته و أخو المرضعة خاله و أختها خالته و كذا في الجد والجدة."
(کتاب الرضاع، 1/ 343، ط:رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) الرضاع (حجته حجة المال) وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان، لكن لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي لتضمنها حق العبد (وهل يتوقف ثبوته على دعوى المرأة؛ الظاهر لا) لتضمنها حرمة الفرج وهي من حقوقه تعالى (كما في الشهادة بطلاقها).
(قوله: حجته إلخ) أي دليل إثباته وهذا عند الإنكار لأنه يثبت بالإقرار مع الإصرار كما مر (قوله: وهي شهادة عدلين إلخ) أي من الرجال. وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأة كان أو رجلا قبل العقد أو بعده، وبه صرح في الكافي والنهاية تبعًا، لما في رضاع الخانية: لو شهدت به امرأة قبل النكاح فهو في سعة من تكذيبها، لكن في محرمات الخانية إن كان قبله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه وبه جزم البزازي معللا بأن الشك في الأول وقع في الجواز، وفي الثاني في البطلان والدفع أسهل من الدفع."
(کتاب النکاح، باب الرضاع، 3/ 224، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101020
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن