
عرض یہ ہے کہ تقریبا سترہ سال قبل میری بیٹی کی پیدائش کے کچھ ہی دن بعد مجھے جھٹکوں (دوروں) کی بیماری لاحق ہوگئی تھی اور میں کئی دن تک ہسپتال میں داخل رہی، اس دوران ہماری ایک رشتہ دار خاتون (جو اب بھی حیات ہیں) نے میری بیٹی کو اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنا دودھ پلایا، اب سترہ سال بعد ہمارے گھر والے اور خود میرے شوہر چاہتے ہیں کہ اسی خاتون کے بیٹے کے ساتھ میری بیٹی کا نکاح کردیا جائے، لہذا گزارش ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں تفصیلاً ارشاد فرمائیں کہ کیا اس لڑکی ا ور لڑکے کے درمیان نکاح جائز ہے؟ ایسی صورت میں اگر لاعلمی میں رشتہ طے کرلیا گیا، تو کیا کرنا چاہیے؟
واقعۃً صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً سائلہ کی بیٹی کو مدتِ رضاعت میں مذکورہ خاتون نے دودھ پلایا ہے، تو سائلہ کی بیٹی اس خاتون کی رضاعی بیٹی بن چکی ہیں اور ان کے تمام بیٹے مذکورہ بیٹی کے رضاعی بھائی ہیں، لہٰذا مذکورہ خاتون کے کسی بھی بیٹے سے سائلہ کی اس بیٹی کا نکاح جائز نہیں ہے، اگر لاعلمی میں منگنی ہوگئی ہے، تو اب علم ہونے پر اس منگنی کو ختم کرنا لازم ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وكذا بناتها يحرمن عليه سواء كن من صاحب اللبن أو من غير صاحب اللبن من تقدم منهن ومن تأخر؛ لأنهن أخواته من الرضاعة وقد قال الله عز وجل {وأخواتكم من الرضاعة} [النساء: 23] أثبت الله تعالى الأخوة بين بنات المرضعة وبين المرضع والحرمة بينهما مطلقا من غير فصل بين أخت وأخت، وكذا بنات بناتها وبنات أبنائها وإن سفلن؛ لأنهن بنات أخ المرضع وأخته من الرضاعة، وهن يحرمن من النسب كذا من الرضاعة."
(كتاب الرضاع، ج:4، ص:2، ط:دار الكتاب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101240
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن