بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بہن سے نکاح


سوال

ایک خاتون کے دو بیٹے ( زید اور خالد)  ہیں،اس خاتون  کے چھوٹے بیٹے زید اور ایک تیسری اجنبی لڑکی فاطمہ نے اس کا دودھ پیا ہے،تو کیا اب زید کے بڑے بھائی خالد اور اس فاطمہ کا نکاح ہوسکتاہے؟ جبکہ اس فاطمہ نے اس کے چھوٹے بھائی زید کے ساتھ  اس کی ماں کا دودھ پیا ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں  (زید اور خالد کی والدہ )کا دودھ پینے کی وجہ سے فاطمہ ان دونوں کی رضاعی بہن بن گئی ہے، پس جس طرح حقیقی بہن سے نکاح حرام ہوتا ہے، بالکل اسی طرح رضاعی بہن سے بھی نکاح حرام ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں خالد کا فاطمہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة."

(باب الرضاع،1/ 343،ط:مکتبة حقانية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب)...."

(باب الرضاع،3/ 213،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101484

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں