بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طالبِ اسلام کو کسی اور کے پاس مسلمان ہونے کے لیے بھیجنے سے بھیجنے والے کے اسلام کا حکم


سوال

رضا بالکفر کا کیا مطلب ہے؟ اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کے پاس اسلام قبول کرنے کے لیے آئے اور وہ مسلمان بجائے خود کلمہ پڑھانے کے کسی اور کے پاس بھیج دے تو کیا اس کو رضا بالکفر پر محمول کرکے اس مسلمان پر کفر کا حکم لگایا جائے گا ؟ جیساکہ عبارات فقہ سے یہی معلوم ہوتا ہے، بعض کتابوں میں جیسے ھندیہ، البحر الرائق وغیرہ میں اس سلسلے میں اختلاف نقل کیا ہے، لیکن قول ِراجح کی تعیین نہیں ہے، اس سلسلے میں با حوالہ قول راجح کی تعیین کرتے ہوئے صورت مسئولہ کا حکم بیان فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مسلمان کا غیر مسلم کو کسی اور کے پاس کلمہ پڑھنے کے لیے بھیجنے سے اس مسلمان پر کفر کا حکم نہیں لگے گا؛کیوں کہ اس کے بھیجنے میں ایک اچھی تاویل کا احتمال ہے بلکہ یہی تاویل ظن غالب ہے  کہ بھیجنے والا یہ چاہتا ہے کہ یہ غیر مسلم کامل اور اچھے طریقے سے فلاں کے پاس اسلام قبول کرلے گا،اور اس کی سند بھی حاصل کرے گا، جیسا کہ امام ابو جعفر طحاوی اور فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمہمااللہ نے صراحت فرمائی ہے،نیز کسی اور کے پاس اسلام کے لیے بھیجنا رضابالکفر میں داخل ہے یا نہیں ، اس سے متعلق فقہاء کرام میں اختلاف ہے،اور جس کے کفر ہونے میں اختلاف ہو اس کے ارتکاب سے  مسلمان پر کفر کا حکم نہیں لگایا جاتا ہے۔

شرح الکتاب الفقہ الأکبر میں ہے:

"وفي الخلاصة كافر قال لمسلم اعرض علي الإسلام، فقال: اذهب إلى فلان العالم كفر؛ لأنه رضي ببقائه في الكفر إلى حين ملازم العالم ولقائه أو لجهله بتحقيق الإيمان لمجرد إقراره بكلمتي الشهادة، فإن الإيمان الإجمالي صحيح إجماعا.
وقال أبو الليث: إن بعثه إلى عالم لا يكفر لأن العالم ربما يحسن ما لا يُحسن الجاهل فلم يكن راضيا بكفره ساعة بل كان راضيا بإسلامه أتم وأكمل."

(فصل في الكفر صريحا وكناية، ص:292، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"نصراني أتى مسلما، فقال: ‌اعرض ‌علي ‌الإسلام حتى أسلم عندك فقال: اذهب إلى فلان العالم حتى يعرض عليك الإسلام فتسلم عنده اختلفوا فيه قال أبو جعفر - رحمه الله تعالى - لا يصير كافرا كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب السير، الباب التاسع، مطلب في موجبات الكفر، ج:2، ص:258، ط:رشيدية)

فتاوی قاضی خان میں ہے:

"نصراني أتى مسلماً فقال: اعرض علي الإسلام حتى أسلم عندك، فقال: اذهب إلى فلان العالم حتى يعرض عليك الإسلام فتسلم عنده، اختلفوا فيه، قيل: يكفر؛ لأنه رضي بكفره بعض الأوقات. وقال الفقيه أبو جعفر رحمه الله تعالى : لا يصير كافراً ؛ لأن العالم يهتدي إلى ما لا يهتدي غير العالم.

(كتاب السير، باب ما يكون كفرا من المسلم وما لا يكون، ج:3، ص:517، ط:دار الكتب العلمية)

منحۃ الخالق  میں ہے:

"(قوله ‌بناء ‌على ‌الرضا بكفر غيره كفر) قال في التتارخانية وفي النصاب الأصح أنه لا يكفر بالرضا بكفر الغير وفي غرر المعاني لا خلاف بين مشايخنا أن الأمر بالكفر كفر وفي شرح السير أن الرضا بكفر الغير إنما يكون كفرا إذا كان يستخف الكفر ويستحسنه أما إذا أحب الموت أو القتل على الكفر لمن كان شديدا مؤذيا بطبعه حتى ينتقم الله تعالى منه فهذا لا يكون كفرا وقد عثرنا على رواية أبي حنيفة أن الرضا بكفر الغير كفر من غير تفصيل."

(کتاب السیر ، باب احکام المرتدین ج:5 ص: 133، ط : دار الکتاب الاسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الفتاوى الصغرى: الكفر شيء عظيم فلا أجعل المؤمن كافرا متى وجدت رواية أنه لا ‌يكفر اهـ وفي الخلاصة وغيرها: إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل ح وفي التتارخانية: لا ‌يكفر بالمحتمل، لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اهـ والذي تحرر أنه لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير فيها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها اهـ كلام البحر باختصار."

(كتاب الجهاد، باب المرتد، ج:4، ص:224، ط:سعيد)

فقط و اللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144403100559

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں