بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

راستے کی بندش کی صورت میں ٹرانزٹ کمپنی کے اضافی اخراجات اور ضمانِ مال کا حکم


سوال

ہماری ٹرانزٹ کمپنی ہے، جو لوگوں کے اموال کو قانونی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ،  بلکہ ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچانے کا کام کرتی ہے، اور کمپنی اپنی شرائط کے تحت مالکِ مال سے اس کا مال لے کر اس کی متعین کردہ جگہ تک پہنچاتی ہے اور کرایہ وصول کرتی ہے، کمپنی کی شرائط میں سے چند درج ذیل ہیں:

”آسمانی آفات، قدرتی حادثات یا غیر طبعی واقعات کی صورت میں کمپنی سامان کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتی، چوں کہ کمپنی سامان کو قانونی راستوں سے منتقل کرتی ہے، اس لیے ایسے حالات میں کمپنی پر کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

نیز اگر دونوں ممالک کے درمیان راستہ سرکاری طور پر بند ہو جائے، یا کسی حکومتی فیصلے کی وجہ سے تاخیر ہو جائے، تو کسی بھی قسم کے اضافی اخراجات یا دیگر مالی نقصانات کی ذمہ داری مکمل طور پر مالکِ مال پر ہوگی، کمپنی ایسے حالات میں کسی بھی خرچے یا نقصان کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گی۔“

اب مسئلہ یہ پیش آیا کہ ہماری کمپنی تقریباً 21 افراد کا مال (چاول) لے کر دوسرے ملک لے جا رہی تھی، جب اس ملک کے قریب پہنچی تو وہاں جانے کے لیے اچانک راستے بند ہوگئے،  جس کی وجہ سے یہ مال کئی دن تک راستے میں گاڑیوں میں پڑا رہا، اور وہیں گودام وغیرہ کے اضافی اخراجات بھی آئے، یہ اضافی اخراجات باقی مالکان نے کمپنی کی شرائط کے مطابق قبول کر لیے، کیوں کہ  مال کمپنی  ضمانت کے طور پر  نہیں لے کر گئی تھی، لیکن ایک شخص انکار کر رہا ہے، حالاں کہ اسے مذکورہ شرائط کا علم تھا، کیوں کہ یہ اضافی اخراجات کمپنی کی وجہ سے نہیں بلکہ راستے بند ہونے کی وجہ سے  آئے ہیں،لیکن   وہ کہتا ہے کہ جتنی رقم کرایہ کے طور پر  پہلے طے ہوئی تھی، میں وہی ادا کروں گا، اس کے علاوہ اضافی خرچہ نہیں دوں گا۔

نیز پھر اسی دوران اس شخص کے تقریباً 14 لاکھ روپے کا کچھ مال بھی کم نکلا، جس کی ذمہ داری کمپنی نے قبول کر لی ہے، کہ کمپنی اس نقصان کا ضمان دے گی، اور اس مال کا جو کرایہ وصول کیا تھا وہ بھی کمپنی واپس کرے گی، البتہ ضمان اس جگہ  اور دن کے اعتبار سے دے گی جس دن کمپنی نے مال اٹھایا  تھا، یعنی کمپنی  قیمتِ خرید کے مطابق ضمان دینے کے لیے تیار ہے، لیکن مال کا مالک یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اسے قیمتِ فروخت کے مطابق ضمان دیا جائے، یعنی جس ملک یہ مال بھیجا گیا تھا اس ملک کے حساب سے ضمان کا مطالبہ کر رہا ہے، کیوں کہ وہاں مال کی قیمت زیادہ ہے، اور  ساتھ میں یہ بھی مطالبہ کررہا ہے کہ مذکورہ مال کا کرایہ بھی واپس کیا جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ:  راستہ بند ہونے کی وجہ سے جو اضافی اخراجات آئے، وہ کس کے ذمہ ہوں گے: مالکِ مال کے یا کمپنی کے؟ 

نیز جس شخص کا مال کم ہو گیاتھا، اسے کس قیمت کے اعتبار سے ضمان دیا جائے؟ کیا اس کا قیمتِ فروخت کا مطالبہ کرنا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مال لے جاتے وقت راستے بند ہونے کی وجہ سے مال پر جو اضافی اخراجات آئے، وہ مال کے مالکان کے ذمہ لازم ہیں، ان اخراجات کا مطالبہ ٹرانزٹ کمپنی سے کرنا جائز نہیں ہے۔

نیز جس شخص کا کچھ مال ٹرانزٹ کمپنی سے غائب ہو گیا ہے، اگر وہ کمپنی کی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے غائب ہوا ہو تو جس ملک/ شہر  میں مال غائب ہوا ہے، اسی ملک / شہر اور اسی دن کی قیمت کے اعتبار سے کمپنی پر ضمان لازم آئے گا، البتہ ایسی صورت میں کمپنی یا تو گم شدہ مال کا مثل (یعنی جتنی چاول کی بوریاں غائب ہوئی تھیں، ویسی ہی چاول کی بوریاں) دے، یا اس کی قیمت اسی ملک اور دن کے اعتبار سے مال کے مالک کو ادا کرنا لازم ہوگی،  تاہم جہاں تک کمپنی نے مذکورہ مال  پہنچایا تھا، اسی جگہ کے تناسب سے کمپنی کرائے کی حق دار ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

(ولا يضمن ما هلك في يده وإن شرط عليه الضمان)؛ لأن شرط الضمان في الأمانة باطل كالمودع (وبه يفتى) كما في عامة المعتبرات، وبه جزم أصحاب المتون فكان هو المذهب خلافا للأشباه ...
(قوله ولا يضمن إلخ) اعلم أن الهلاك إما بفعل الأجير أو لا، والأول إما بالتعدي أو لا. والثاني إما أن يمكن الاحتراز عنه أو لا، ففي الأول بقسميه يضمن اتفاقا. وفي ثاني الثاني لا يضمن اتفاقا وفي أوله لا يضمن عند الإمام مطلقا ويضمن عندهما مطلقا ... وفي ‌البدائع: ‌لا ‌يضمن عنده ما هلك بغير صنعه قبل العمل أو بعده؛ لأنه أمانة في يده وهو القياس. وقالا يضمن إلا من حرق غالب أو لصوص مكابرين وهو استحسان اهـ، قال في الخيرية: فهذه أربعة أقوال كلها مصححة مفتى بها، وما أحسن التفصيل الأخير والأول قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -. وقال بعضهم: قول أبي حنيفة قول عطاء وطاوس وهما من كبار التابعين، وقولهما قول عمر وعلي وبه يفتى احتشاما لعمر وعلي، صيانة لأموال الناس، والله أعلم اهـ. وفي التبيين: وبقولهما يفتى لتغير أحوال الناس، وبه يحصل صيانة أموالهم اهـ.؛ لأنه إذا علم أنه لا يضمن ربما يدعي أنه سرق أو ضاع من يده."

(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، 6/ 65، ط: سعيد)

شرح المجلہ للاتاسی میں ہے:

"الودیعة أمانة في ید الودیع، فإذا هلکت بلا تعد منه وبدون صنعه وتقصیره في الحفظ لا یضمن، ولکن إذا کان الإیداع بأجرۃ فهلکت أو ضاعت بسبب یمکن التحرز عنه لزم المستودع ضمانها."

(الفصل الثاني في أحكام الوديعة، 3/ 242، رقم: 777، ط: المكتبة الحبيبهة، كوئتة باكستان)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"وحكم الأجير المشترك أن ما هلك في يده من غير صنعه فلا ضمان عليه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول زفر والحسن، وإنه قياس سواء هلك بأمر يمكن التحرز عنه " كالسرقة والغصب، أو بأمر لا يمكن التحرز عنه، كالحرق الغالب والغارة الغالبة والمكابرة، وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى إن هلك بأمر يمكن التحرز عنه فهو ضامن، وإن هلك بأمر لا يمكن التحرز عنه فلا ضمان. كذا في المحيط."

(كتاب الإجارة، الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك، الفصل الأول الحد الفاصل بين الأجير المشترك والخاص، 4/ 500، ط: دار الفكر)

وفيه أيضا:

"إذا وجب الضمان على الأجير المشترك عندهما فإن هلك قبل العمل يضمن قيمته غير معمول ولم يكن له من الأجرة شيء، وإن هلك بعد العمل فصاحبه بالخيار إن شاء ضمنه قيمته معمولا ويعطي له الأجر ويحط الأجرة من الضمان، وإن شاء ضمن قيمته غير معمول ولم يكن عليه أجرة. كذا في السراج الوهاج."

(كتاب الإجارة، الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك، الفصل الأول الحد الفاصل بين الأجير المشترك والخاص، 4/ 500، ط: دار الفكر)

درر الحکام میں ہے:

"الوديعة إذا لزم ضمانها فإن كانت من المثليات تضمن بمثلها وإن كانت من القيميات تضمن بقيمتها يوم وقوع الشيء الموجب للضمان. تشتمل هذه المادة على حكمين:

 الحكم الأول: يلزم مثل الوديعة إذا كانت من المثليات فعليه لو استهلك المستودع الحنطة المودعة عنده في وقت غلاء وأراد أن يؤدي مثلها إلى صاحبها وقت الرخاء فطلب المودع قيمتها يوم الاستهلاك فالقاضي لا يحكم بقيمتها وقت الاستهلاك بل يحكم بأداء مثلها. وسيوضح في شرح المادة 891 سبب لزوم مثل الوديعة التي تكون من المثليات.  

الحكم الثاني: إذا كانت الوديعة من القيميات لزمت قيمتها يوم لزوم الضمان؛ لأنه لما كان يوم وقوع الشيء الموجب للضمان هو زمان الغصب فتلزم قيمة المغصوب في الوقت المذكور كما هو مبين في الفقرة الأخيرة من المادة (891) ومسألة هذه المادة العمومية هي المادة (891) كذلك إذا لزم تضمين نقصان قيمة الوديعة فتلزم قيمة النقصان يوم وقوع الشيء الذي أوجب الضمان."

(الكتاب السادس الأمانات، الباب الثاني في الوديعة، الفصل الثاني في بيان أحكام الوديعة وضماناتها، 2/ 332، ط: دار الجيل)

وفيه أيضا:

"(المادة 891) - (كما أنه يلزم أن يكون الغاصب ضامنا إذا استهلك المال المغصوب كذلك إذا تلف أو ضاع بتعديه أو بدون تعديه يكون ضامنا أيضا فإن كان من القيميات يلزم الغاصب قيمته في زمان الغصب ومكانه وإن كان من المثليات يلزمه إعطاء مثله) . كما أنه يلزم أن يكون الغاصب ضامنا للمغصوب منه أو لورثته إذا استهلك المال المغصوب، فإذا تلف أو ضاع بتعديه أو بدون تعديه أو بتقصيره أو طرأ على قيمته نقصان يكون ضامنا في الحال لأن المغصوب لما كان مضمونا على الغاصب بمجرد غصبه إياه بمعنى أن على الغاصب أن يرده عينا إذا كان موجودا وبدلا إذا كان مستهلكا فلا يختلف حكم الغصب بسبب هلاك المغصوب بفعل الغاصب أو بغير فعله."

(الكتاب الثامن الغصب، الفصل الأول في بيان أحكام الغصب، 2/ 519، ط: دار الجيل)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101602

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں