
میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ میلاد منانا بدعت ہے تو بعض لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے پیر کے دن روزہ رکھا اور فرمایا: “یہ میرا یومِ ولادت ہے”، لہٰذا یہ بھی میلاد کی ایک صورت ہے۔ پھر وہ آیتِ کریمہ ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾ (یونس: 58) بھی پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ خوشی کے حق دار نبی کریم ﷺ کی ذات ہے۔کیا واقعی ان دلائل سے میلاد منانے کو ثابت کیا جا سکتا ہے؟ اور اس کا صحیح جواب دلائل کے ساتھ بتادیں۔
نبی کریم ﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔لیکن اس عادت مبارکہ سے عید میلاد النبی کے ثبوت پر استدلال کرنا قطعاً درست نہیں ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ یہ روزہ کس لیے رکھا کرتے تھے روزے کا عید کے منافی ہونا بالکل ظاہر ہے اس لیے کہ عید کے دن روزہ نہیں رکھا جاتا، اور اگر بالفرض استدلال مان بھی لیا جائے، تب بھی اس سے صرف اتنا ہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پیر کا دن روزہ کے ساتھ گزارا۔ اس پر تو کوئی اختلاف نہیں، بلکہ ہر پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا سنتِ نبوی کے مطابق باعثِ اجر و سعادت ہے۔مزید یہ کہ پیر کے دن کو ربیع الاول کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں، آپ ﷺ ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔اگر مذکورہ استدلال کو درست مانا جائے تو پھر ہر پیر کے دن میلاد منانا چاہیے،اس کے لیے سالانہ تہوار کا انتظار نہیں کرنا چاہیے،جس پر اہل بدعت خود بھی عمل نہیں کرسکتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پیر کے دن روزہ رکھتے تھے، جبکہ مروجہ میلاد صرف 12 ربیع الاول کو منایا جاتا ہے، چاہے وہ ہفتے کے کسی بھی دن آئے۔
تیسری بات یہ کہ بعض روایات میں اگرچہ پیر کو روزہ رکھنے کی ایک حکمت آپ ﷺ کی ولادت کا دن ہونا بیان ہوئی ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے خود جس علت کو صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے:
"اعمال پیر اور جمعرات کو اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش ہو کہ میں روزے سے ہوں۔"
(سنن الترمذی، ابواب الصوم، حدیث: 747)
رہی آیتِ کریمہ ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا﴾ سے استدلال کی بات، تو اس سے خوشی کا حکم تو ضرور ثابت ہوتا ہے، اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حضور ﷺ کی تشریف آوری دنیا کے لیے باعثِ مسرت ہے۔البتہ اس آیت میں خوشی کا حکم مطلق ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ہم اس مطلق خوشی پر زیادہ عمل کرنے والے ہیں؛ کیونکہ عیدِ میلاد منانے والے تو سال بھر میں صرف ایک مرتبہ (12 ربیع الاول کو) خوشی کا اظہار کرتے ہیں، اور باقی سال ان کی خوشی منقطع رہتی ہے۔ جبکہ ہم ہر وقت خوش رہتے ہیں۔لہٰذا جو لوگ خوشی کو صرف ایک دن تک محدود کرتے ہیں وہی دراصل آیت کے حکم سے انقطاع کرتے ہیں، اور ہم اسے ہر وقت قائم رکھتے ہیں۔ پس ہم بفضلہ تعالیٰ اس آیت پر بھی عمل کرتے ہیں اور بدعات سے ممانعت کے دلائل پر بھی۔ جبکہ مروجہ میلاد منانے والے دونوں سے بے نصیب ہیں ۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ خوشی کا جو طریقہ اختیار کیا جارہا ہے، کیا وہ شریعت میں ثابت بھی ہے یا نہیں؟اختلاف دراصل مروجہ طریقۂ میلاد میں ہے، جو نہ صحابہؓ سے ثابت ہے، نہ تابعین و تبع تابعین سے، بلکہ ابتدائی چھ صدیوں میں کسی سے منقول نہیں – باوجود اس کے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے۔
مزید برآں کہ بہت سے مفسرین نے آیت میں "فضل" سے مراد قرآن اور "رحمت" سے مراد اسلام لیا ہے،نہ کہ ولادت۔
سنن الترمذی میں ہے:
"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس، فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم."
(أبواب الصوم،باب ما جاء في صوم يوم الاثنين والخميس،ج:2،ص:114،ط:دار الغرب الاسلامی)
تفسير الطبري میں ہے:
"القول في تأويل قوله تعالى: قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون (یونس58)
قال أبو جعفر: يقول تعالى ذكره لنبيه محمد صلى الله عليه وسلم: (قل) يا محمد لهؤلاء المكذبين بك وبما أنزل إليك من عند ربك (بفضل الله) ، أيها الناس، الذي تفضل به عليكم، وهو الإسلام، فبينه لكم، ودعاكم إليه (وبرحمته) ، التي رحمكم بها، فأنزلها إليكم، فعلمكم ما لم تكونوا تعلمون من كتابه، وبصركم بها معالم دينكم، وذلك القرآن (فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون) ، يقول: فإن الإسلام الذي دعاهم إليه، والقرآن الذي أنزله عليهم، خير مما يجمعون من حطام الدنيا وأموالها وكنوزها...
17668- حدثني علي بن الحسن الأزدي قال، حدثنا أبو معاوية، عن الحجاج، عن عطية، عن أبي سعيد الخدري في قوله: (قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا) ، قال: بفضل الله القرآن (وبرحمته) أن جعلكم من أهله.
17669- حدثني يحيى بن طلحة اليربوعي قال، حدثنا فضيل، عن منصور، عن هلال بن يساف: (قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا) ، قال: بالإسلام الذي هداكم، وبالقرآن الذي علمكم.
17670- حدثنا أبو هشام الرفاعي قال، حدثنا ابن يمان قال، حدثنا سفيان، عن منصور، عن هلال بن يساف: (قل بفضل الله وبرحمته) ، قال: بالإسلام والقرآن= (فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون) ، من الذهب والفضة.
17671- حدثنا ابن بشار قال، حدثنا عبد الرحمن قال، حدثنا سفيان، عن منصور، عن هلال بن يساف، في قوله: (قل بفضل الله وبرحمته) ، قال: "فضل الله"، الإسلام، و"رحمته"، القرآن.
17672- حدثني علي بن سهل قال، حدثنا زيد قال، حدثنا سفيان، عن منصور، عن هلال بن يساف، في قوله: (قل بفضل الله وبرحمته) ، قال: الإسلام والقرآن."
(ج:15،ص:105،ط:دار التربية والتراث)
خطبات حکیم الامت میں ہے :
اول یہ آیت قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ ۖ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا سے استدلال کر سکتے ہیں کہ اس آیت سے فقط فرحت کا مامور بہ ہونا ثابت ہوا اور یہ عید بھی اظہار فرحت ہے۔ لہذا جائز ہے جواب ظاہر ہے کہ اس آیت سے فقط فرحت کا مامور بہ ہونا نکلا اور گفتگو اس ہیئتِ خاصہ میں ہے لہذا اس آیت سے اس کو کوئی مس نہیں اور اگر اس کلیہ میں داخل کرنا اس کا صحیح ہو تو فقہاء نے کتب فقہ میں جن بدعات کو روکا ہے وہ بھی کسی نہ کسی ایسے ہی کلیہ میں داخل ہو سکتی ہے۔ چاہے کہ وہ بھی جائز ہو جاویں حالانکہ کتب فقہ جو مسلم عند الفریقین ہیں ان میں ان کی ممانعت مصرحاً مذکور ہے اور ان اہل زیغ کو ہمیشہ یہ دھوکا ہوتا ہے اور یا تجاہل ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اور اہل حق کے قضیہ کا موضوع ایک ہے۔ اسی بناء پر اہل حق پر اعتراض کر دیتے ہیں چنانچہ یہاں بھی مغالطہ ہے ہم جس بات کو ناجائز کہتے ہیں وہ ہیئت خاصہ ہے اور جو فرحت آیت فلیفرحوا سے ثابت ہوتی ہے وہ فرحت مطلقہ ہے۔ پس یہ یوں سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ فرحت کو منع کرتے ہیں حالانکہ صحیح نہیں بلکہ اگر غور سے کام لیا جائے تو ہم اس فرحت پر زیادہ عمل کرتے ہیں اس لئے کہ یہ موجدین تو سال بھر میں ایک ہی مرتبہ خوش ہوتے ہیں اور درمیان میں ان کی فرحت منقطع ہو جاتی ہے اور ہم ہر وقت خوش ہیں۔ پس جو فرح کو منقطع کریں۔ وہ آیت کے تارک ہیں۔ ہم تو کسی وقت بھی قطع نہیں کرتے۔ پس ہم بفضلہ تعالیٰ آیت پر بھی عمل کرتے ہیں اور دلائل منع بدعات پر بھی عامل ہیں اور اہل بدعت کو دونوں امر نصیب نہیں ہیں۔
خلاصہ یہ ہوا کہ فرح مامور بہ کے تین درجے ہیں۔ (۱) افراط (۲) تفریط (۳) اعتدال۔ تفریط تو یہ ہے کہ تحدید بالحاء المہملہ کر دیں کہ فلاں وقت پر یہ فرح ختم ہو گئی جیسا بعض خشک مزاجوں کے کلام سے مترشح ہو گیا ہے اور افراط یہ ہے کہ فرح کو جاری رکھیں مگر حدود شرعیہ سے تجاوز کریں جیسا اہل تجدید بالجیم المعجمہ کا طریقہ متعارف ہو گیا۔ اور اعتدال ادامۃ میں ہے۔ پس ہم نہ محدود ہیں نہ مجدد بلکہ مدیم ہیں۔ والحمد للہ علی ذلک۔
(رسم عید میلاد لنبی ،ج:5،ص:82،ط؛ادارہ تالیفات اشرفیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100048
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن