
آج کل پاکستان میں رقمی(Raqami) بینک کے بارے میں کافی تشہیر ہو رہی ہے، بتایا جاتا ہے کہ یہ بینک 100فی صد ڈیجیٹل بینک ہے اور پاکستان اور کویت کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے سیونگ اکاؤنٹ پر ملنے والا منافع 100فی صد حلال ہے، اور اس کے لیے ان کے پاس شریعہ بورڈ بھی موجود ہے، نیز اس کے جواز کے متعلق فتویٰ بھی دیا گیا ہے۔ براہِ کرم اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ آیا ایسے بینک کے سیونگ اکاؤنٹ پر ملنے والا منافع شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کیا صرف شریعہ بورڈ اور فتویٰ کی موجودگی اس کے جائز ہونے کے لیے کافی ہے، یا اس کے طریقہ کار اور معاملات کی مزید تحقیق ضروری ہے؟ میں نے ان کی شریعہ گورننس کا لنک نیچے درج کر دیا ہے، برائے مہربانی اسے دیکھ کر رہنمائی فرما دیں۔
https://raqamidigital.com/shariah-governance
مروجہ اسلامی بینکاری میں جو طرق تمویل رائج ہیں، ان میں کئی معاملات و معاہدات ایسے پائے جاتے ہیں، جو شرعی اعتبار سے بہت سے سقم کا مجموعہ ہیں، مذکورہ بینک کا طریقہ کار بھی اگر ان ہی اصولوں پر استوار ہے تو اس میں رقم رکھنا اور اس رقم پر منافع حاصل کرنا درست نہیں ہے، نیز ویب سائٹ پر مذکورہ بینک کے طریقہ کار کی مکمل تفصیل موجود نہیں، بہتر ہوگا کہ تمام معاملات اور طریقہ کارکی مکمل تفصیل تحریر کرکے دوبارہ سوال ارسال فرمائیں۔
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101732
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن