بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رقم اور دیگر اشیاء کی شرعی حیثیت: ترکہ کی تقسیم کا حکم


سوال

1۔میرے بہنوئی باہر ملک میں تھے، اور اپنے کمائے ہوئے پیسے کچھ لوگوں کے پاس امانتاًرکھوائے اور کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوجائے یعنی میری وفات ہوجائے تو یہ پیسے میری بیوی کے ہاتھ میں دینا، اس کے بعد بہنوئی کا انتقال ہوگیا۔

سوال یہ ہے کہ اس رقم کی کیا حیثیت ہے؟ اگر یہ رقم ترکہ شمار ہوگی، تو کیا پہلے بیوہ کے ہاتھ میں دی جائے گی، پھر ورثاء کو دی جائے گی یا بیوہ کے ہاتھ میں دینا ضروری نہیں؟

2۔مرحوم کی ملکیت کی دیگر اشیاءیعنی گھر کے برتن وغیرہ بھی ترکہ میں تقسیم کی جائیں گی؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں سائل کے بہنوئی کی وفات کے بعد مذکورہ رقم بہنوئی کا ترکہ شمار ہوگا، اس لیے مرحوم کا یہ  کہنا کہ ”اگر مجھے کچھ ہوجائے تویہ رقم میری بیوی کے ہاتھ میں دینا“  اس سے یہ لازم نہیں کہ مذکورہ رقم  پہلے بیوہ کے ہاتھ میں دی جائے پھر ترکہ تقسیم میں کی جائے، بلکہ اس رقم کو بیوہ کے ہاتھ میں دیے بغیر بھی اگر تمام شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم کردیا جائے تو جائز ہوگا۔

2۔کسی بھی شخص کے انتقال کے وقت اس کی تمام مملوکہ اشیاء مثلاً گھر، مال، سونا، کپڑے، برتن وغیرہ ہر چیز ترکہ کہلاتا ہے، اور اس پر تمام شرعی ورثاءکا حق ہوتا ہے، تمام ورثاء کے درمیان تقسیم کرنا لازم ہوتا ہے، لہٰذا مذکورہ تفصیل کی رو سے ملکیت کی دیگر اشیاءیعنی گھر کے برتن وغیرہ بھی ترکہ میں تقسیم کی جائیں گی۔

تکملہ حاشیہ ابن عابدین میں ہے:

''لان التركة في الاصطلاح ‌ما ‌تركه ‌الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.''

(‌‌كتاب الفرائض،ج: 7، ص: 350، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100093

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں