
رنگ کی کمپنیاں بالٹی کے اندر جو ٹوکن ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ہم اپنے جیب سے کاریگر کے لیے ڈالتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ ٹوکن کا حق دار اصل خریدار ہے ،لہذااگر رنگ ساز اپنے پیسوں سے رنگ خرید کر رنگ کرتا ہو اور رنگ کروانے والے سے رنگ اور اپنی محنت کا ایک مجموعی معاوضہ لیتا ہو (جیساکہ ٹھیکہ کے معاملات میں ہوتا ہے) تو اس صورت میں رنگ ساز ہی ٹوکن کا حق دار ہوگا؛ کیوں کہ خریدار بھی وہی ہے،لیکن اگر رنگ ساز صرف رنگ سازی کا کام کرے، اور رنگ، رنگ کروانے والا خود خریدے یا رنگ ساز کو پیسے دے اور رنگ ساز اس کے وکیل کی حیثیت سے خریدے تو ان دونوں صورتوں میں ٹوکن کا حق دار اصل خریدار ( مالک )ہوگا۔
البحرا لرائق میں ہے :
"من ملك شيئا ملك ما هو من ضروراته وتوابعه."
(كتاب المكاتب،باب ما يجوز للمكاتب أن يفعله وما لا يجوز،ج:8،ص:51،دارالكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101131
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن