بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 صفر 1448ھ 09 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک میں حافظ صاحب کا روزانہ تراویح کے دوران پانی پر دم کرنا اور آخری تراویح (ختمِ قرآن) کے موقع پر اسے گاؤں والوں میں تقسیم کرنے کا حکم


سوال

 مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے  ہاں ادھر یکم رمضان سے کسی بوتل وغیرہ میں پانی رکھ دیا جاتا ہے اور شروع تراویح سے آخر تک حافظ صاحب ہر دن اس پانی پر دم کرتے ہیں پھر اس پانی کو گاؤں والوں میں تقسیم کرتے ہیں کیا یہ عمل بدعت ہے یا جائز؟

جواب

واضح رہے کہ پانی پرقرآنی آیات پڑھ کر دم کرنا اور اس پانی کو لوگوں میں تقسیم کرنا(تبرک یا شفاءِ امراض کے لیے)فی نفسہ مباح ہے،لیکن اگر اس کے لیے کسی مخصوص طریقے کو لازم سمجھنا درست نہیں۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے اہلِ محلہ یکم رمضان سے کسی بوتل میں پانی رکھ دیتے ہوں، اورپہلی تراویح سے لے کر آخری تراویح تک اس پر حافظ ِقرآن دم کرتے ہوں اور پھر وہ پانی اہلِ محلہ میں تبرک یا شفاءِ امراض کی غرض سے تقسیم کردیا جاتا ہو،تو یہ جائز ہے بشرطیکہ اس طریقہ کو لازم نہ سمجھا جائے اور دین کا لازمی حصہ نہ بنادیا جائے،نیز اس سے مسجد میں شور وشغب بھی نہ ہو ورنہ جائز نہیں ہوگا۔

خیر الفتاوی میں ہے:

"دم کی ایک مروج صورت کا حکم

گزارش ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مسجد کے باہر بچے اور لوگ برتن لیے کھڑے رہتے ہیں کہ نماز ختم ہو اور وہ اپنے برتن میں دم کرائیں۔ رمضان شریف میں بوتلوں کی قطار کی قطار لگ جاتی ہے ۔ اس میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ نیز اس کے متعلق کوئی حدیثِ نبوی ہو تو تحریر فرمائیں۔

الجواب: اس میں کوئی خلافِ شرع امر نہیں، ہاں شور و شغب ہوتا ہو تو شور سے روکنا چاہیے، دم کرنا حدیث سے ثابت ہے:

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے زخم ہو گیا تھا فرماتے ہیں کہ میں خدمتِ نبوی میں حاضر ہوا،آپ نے تین مرتبہ دم فرمایا تو زخم درست ہو گیا۔"فأتيت النبى عليه السلام فنفث فيه ثلاث نفثات فما اشتكيتها حتى الساعة ." (مشكوة، ص۵۳۳) 

نیز حدیث میں ہے :"كان رسول الله عليه السلام اذا صلى الغداة جاء خدم المدينة بآنيتهم فيها الماء فما يأتون باناء الا غمس يده فيها فربما جاءوا بالغداة الباردة فيغمس يده فيها." (مشكوة ص۵۱۹)۔

فقط واللہ اعلم : بندہ عبدالستار عفا اللہ عنہ۔"

(ذکر و اورد،دعا اور تعویذات، ج: 1، ص: 345، ط: مکتبہ امدادیہ ملتان)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"ختمِ قرآن کے موقع پر پانی وغیرہ دم کرانا

سوال:رمضان میں ختمِ قرآن کے موقع پر امام صاحب سے پانی، سونف، نمک، سرمہ،تیل وغیرہ پر نمازی دم کراتے ہیں اور تبرک سمجھ کر اس کو استعمال کرتے ہیں، اس وقت خاص برکت ہوتی ہے یا ہمیشہ ختم کرا کے دم کرائے؟ اس رسم کو جاری رکھنے میں حرج ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلياً:

قرآن کریم کی برکت ہمیشہ ہوتی ہے، رمضان شریف کی برکت رمضان کے ساتھ خاص ہے، ختم کی برکت ختم کے ساتھ خاص ہے، تراویح کی برکت تراویح کے ساتھ، اس لئے اس وقت دم کرانے میں مضائقہ نہیں مگر اس کو رسم بنانا اور التزام کرنا نہیں چاہیے ۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔

حررہ العبد محمود عفا اللہ عنہ، معین مفتی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور۔"

(باب التراویح، ج: 7، ص: 341، ط: ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101397

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں