بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں وتر کی تیسری رکعت میں سرا قراءت کا حکم/ فجر کی نماز پڑھتے ہوئے سورج طلوع ہونے سے نماز کا حکم


سوال

1۔  میں نے ایک رمضان میں تراویح پڑھائی ،لیکن مجھ سے وتروں میں غلطی یہ ہوتی رہی کہ تیسری رکعت جہری کے بجائے سری پڑھاتا رہا ،لیکن اب بعد میں پتا لگا ،اب کیا حکم ہے؟

2۔  فجر کی نماز پڑھ رہا تھا اور ٹائم ختم ہوگیا تو کیا اب نماز توڑنی پڑے گی یا نماز پوری کروں ؟

جواب

1:  واضح رہے کہ جن نمازوں میں بلند آواز سے قراءت کرنا واجب ہے ان میں سے کسی ایک  رکعت میں امام آہستہ آواز سے قراءت کرلیتا ہے  تو  اس سے سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل  رمضان المبارک میں تراویح پڑھاتے ہوئے وتر کی تیسری رکعت میں غلطی سے  سراً قراءت کرتا رہا  تو سائل پر  سجدہ سہو کرنا لازم تھا ،چوں کہ سائل نے اس وقت سجدہ سہو نہیں کیا تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوگئی ہے ،البتہ اب اگر  تمام مقتدیوں کو   اطلاع کرنا ممکن ہو تو ان کو اطلاع کرکے  اعادہ کرنا مستحب ہے ۔

2: فجر کی  نماز کے دوران سورج طلوع ہوجائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے ؛لہذا سائل نماز پوری نہ کرے، بلکہ  نماز چھوڑ دے اور  مکروہ وقت کے اختتام (اشراق کا وقت ہونے) کے بعد  اس نماز کی قضا کرے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وكذا يجهر في التراويح والوتر إن كان إماما وإن كان منفردا إن كانت صلاة يخافت فيها يخافت حتما هو الصحيح وإن كانت صلاة يجهر فيها فهو بالخيار والجهر أفضل ولكن لا يبالغ مثل الإمام؛ لأنه لا يسمع غيره. كذا في التبيين ولا يجهد الإمام نفسه بالجهر. كذا في البحر الرائق."ْ

(كتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الثاني في واجبات الصلاة، ج:1، ص:72، دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: بخلاف الفجر إلخ) أي ‌فإنه ‌لا ‌يؤدي ‌فجر ‌يومه ‌وقت ‌الطلوع؛ لأن وقت الفجر كله كامل فوجبت كاملة، فتبطل بطرو الطلوع الذي هو وقت فساد.

قال في البحر: فإن قيل: روى الجماعة عن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «من أدرك ركعة من العصر قبل أن تغرب الشمس فقد أدركها، ومن أدرك ركعة من الصبح قبل أن تطلع الشمس فقد أدرك الصبح» " أجيب بأن التعارض لما وقع بينه وبين النهي عن الصلاة في الأوقات الثلاثة رجعنا إلى القياس كما هو حكم التعارض، فرجحنا حكم هذا الحديث في صلاة العصر وحكم النهي في صلاة الفجر، كذا في شرح النقاية."

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:373، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100121

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں