بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک میں مغرب کی نماز کی ادائیگی میں کتنی تاخیر کی گنجائش ہے؟


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس بارے میں؟ رمضان کا مہینہ ہے۔ مغرب کی نماز ہماری مسجد میں اذان کے تقریباً 10 منٹ بعد ہوتی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ روزہ تقریباً 13  گھنٹے کا ہوتا ہے۔ روزہ دار سارے دن بھوکا پیاسا رہ کر روزہ افطار کرتا ہے، ظاہر ہے کہ ایک پیالہ کچھ کھائے گا، ایک یا دو گلاس پانی پئے گا، اور اس میں 2-3منٹ لگ جائیں گے۔ اگر کوئی شوگر یا بلڈ پریشر کا مریض ہو، تو دوا یا انجیکشن بھی لے گا۔

مسجد پہنچنے میں، جے بلاک کی درمیانی گلیوں سے تیز چلنے پر بھی ایک تندرست آدمی کو کم از کم 7سے 8 منٹ لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تکبیرِ اولی یا1-2  رکعت نکل جاتی ہے۔ بیمار یا بزرگ لوگ بمشکل جماعت میں شامل ہو پاتے ہیں، اور ماشاء اللہ 500  نمازیوں میں سے تقریباً 50 کو تکبیرِ اولی نصیب ہوتی ہے۔

ہم چار سال سے انتظامیہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ بھائی ٹائم میں 5 منٹ کا اضافہ کیا جائے، اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو۔ اس سے اکثریت نمازی تکبیرِ اولی کے ثواب سے محروم نہیں رہیں گے۔ مسجد میں شور شرابہ سے بچنے کے لیے تاکہ مسجد کا تقدس پامال نہ ہو، آپ سے  قرآن و سنت کی روشنی میں راہ نمائی چاہتے ہیں!

جواب

 عام دنوں میں مغرب کی نماز کی ادائیگی میں جلدی کرنا  مستحب ہے، البتہ رمضان المبارک میں افطار کی سہولت کے پیشِ نظر، وقتِ مغرب شروع ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ دس  منٹ تک تاخیر کی گنجائش ہے، تاکہ لوگ اپنے گھروں میں افطار کرکے باجماعت نماز میں شریک ہوسکیں۔ لیکن اس سے زیادہ تاخیر کرنا درست نہیں؛ یعنی اتنی تاخیر کرنا کہ آسمان پر ستارے ظاہر ہونے لگیں، یہ مکروہِ تحریمی ہے۔

واضح رہے کہ نبی کریم ﷺ بہت سادہ اور مختصر افطار فرماتے تھے۔ مغرب کی نماز سے پہلے صرف چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے تھے۔ اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو چند خشک کھجوریں تناول فرماتے، اور اگر وہ بھی موجود نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے۔ مغرب کی نماز میں تاخیر  کی کوئی بھی روایت   آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے جو وقفہ (دس منٹ) مقرر کیا گیا ہے، وہ مختصر افطار کرنے اور جماعت میں حاضری کے لیے کافی ہے۔  لہٰذا نمازی حضرات کو چاہیے کہ ہلکے افطار (کھجور اور پانی) پر اکتفا کرکے فوراً مسجد کا رخ کریں۔ مکمل اور تفصیلی کھانا یا دوائی وغیرہ نماز کے بعد لے لی جائے، تاکہ تعجیلِ افطار اور تعجیلِ نماز دونوں سنتوں پر عمل ہو سکے۔  

سننِ أبي داود میں ہے:

"عن أنس بن مالك يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر ‌على ‌رطبات ‌قبل ‌أن ‌يصلي، فإن لم تكن رطبات فعلى تمرات، فإن لم تكن تمرات حسا حسوات من ماء".

(باب القول عند الإفطار، ج: 4، ص: 39، ط: دار الرسالة العالمية) 

صحيح ابن خزیمۃ   میں ہے: 

"عن مرثد بن عبد الله اليزني قال: قدم علينا أبو أيوب غازيا... (فقال)  سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تزال أمتي بخير أو على الفطرة ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم."

(باب التغليظ في تأخير صلاة المغرب، ج: 1، ص: 174، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"(وأما) المغرب فالمستحب فيها التعجيل في الشتاء والصيف جميعا، وتأخيرها ‌إلى ‌اشتباك ‌النجوم مكروه، لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا تزال أمتي بخير ما عجلوا المغرب وأخروا العشاء."

(فصل شرائط أركان الصلاة، ج: 1، ص: 126، ط: مطبعة شركة المطبوعات العلمية ومطبعة الجمالية بمصر)

حاشیۃ  الطحطاوي على الدّر المختار میں ہے:

"قوله : (إِلَى اشْتِباكِ النُّجوم ظاهره أنها بقدر ركعتين لا يكره مع أنه يكره أخذا من قولهم بكراهة ركعتين قبلها، واستثناء صاحب «القنية» القليل يحمل على ما هو الأقل من قدرهما توفيقا بين كلام الأصحاب «نهر» عن الكمال، وفيه عن المبتغى يكره تأخير المغرب في رواية، وفي أخرى ما لم يغب الشفق والأصح الأول إلا من عذر كسفر ونحوه".

(كتاب الصلاة، ج: 2، ص: 33، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

وفيه أيضا: 

"واعلم أن التأخير بقدر ركعتين مكروه تنزيها وإلى اشتباك النجوم تحريمًا ، فإن قلت : روي أنه الله قرأ سورة الأعراف في صلاة المغرب وذلك يدل على أن التأخير ليس بمكروه أجيب بأن الكلام فيما إذا أخر إلى وقت الكراهة ثم شرع والذي فعله كان من باب المد، والمد من أول الوقت إلى آخره معفو، أبو السعود مع زيادة".

(كتاب الصلاة، ج: 2، ص: 34، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) أخر (المغرب إلى اشتباك النجوم) أي كثرتها (كره) أي التأخير لا الفعل لأنه مأمور به (تحريما) إلا بعذر كسفر، وكونه على أكل.

(قوله: ‌إلى ‌اشتباك ‌النجوم) هو الأصح. وفي رواية لا يكره ما لم يغب الشفق بحر أي الشفق الأحمر؛ لأنه وقت مختلف فيه فيقع الشك. وفي الحلية بعد كلام: والظاهر أن السنة فعل المغرب فورا وبعده مباح ‌إلى ‌اشتباك ‌النجوم فيكره بلا عذر اهـ قلت أي يكره تحريما، والظاهر أنه أراد المباح ما لا يمنع فلا ينافي كراهة التنزيه ويأتي تمامه قريبا. (قوله: أي كثرتها) قال في الحلية: واشتباكها أن يظهر صغارها وكبارها حتى لا يخفى منها شيء، فهو عبارة عن كثرتها وانضمام بعضها إلى بعض. اهـ". (قوله: إلا بعذر إلخ) ظاهره رجوعه إلى الثلاثة أيضا لكن ذكر في الإمداد في تأخير العصر إلى الاصفرار عن المعراج أنه لا يباح التأخير لمرض أو سفر اهـ ومثله في الحلية واقتصر في الإمداد وغيره على ذكره الاستثناء في المغرب، وعبارته إلا من عذر كسفر ومرض وحضور مائدة أو غيم. اهـ."

(‌‌كتاب الصلاة، ج: 1، ص: 368-369، ط: ٳیچ ٳیم سعید کمپنی کراچی)

وفيه أيضا: 

"وأن ما في القنية من استثناء التأخير القليل محمول على ما دون الركعتين، وأن الزائد على القليل إلى اشتباك النجوم مكروه تنزيها، وما بعده تحريما إلا بعذر كما مر قال في شرح المنية: والذي اقتضته الأخبار كراهة التأخير إلى ظهور النجم وما قبله مسكوت عنه".

(‌‌كتاب الصلاة، ج: 1، ص: 369، ط: ٳیچ ٳیم سعید کمپنی کراچی)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709102312

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں