بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1441ھ- 07 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

ریشمی کپڑا استعمال کرنے کا حکم


سوال

ریشمی کپڑا عورتوں اور بچوں کے لیے پہننا کیسا ہے؟

جواب

خالص ریشم کا استعمال مردوں کے لیے حرام ہے، لیکن عورتوں  اور بچیوں کے لیے ریشم  کا استعمال جائز ہے؛ ایک حدیث میں آتا ہےکہ رسول اللہ ﷺ ایک دن اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ ﷺ کے ایک دست مبارک میں ریشم اور دوسرے میں سونا تھا،   آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور میری امت کی عورتوں کے لیے حلال ہیں۔

اور والدین کے لیے  چھوٹے بچوں (لڑکوں) کو  پہنانے سے بھی اجتناب ضروری ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 130):

"(وأما) .الذي ثبت حرمته في حق الرجال دون النساء فثلاثة أنواع منها لبس الحرير المصمت من الديباج والقز لما روي «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج وبإحدى يديه حرير وبالأخرى ذهب، فقال: هذان حرامان على ذكور أمتي حل لإناثها». وروي «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطى سيدنا عمر - رضي الله تعالى عنه - حلة فقال: يا رسول الله! كسوتني حلة وقد قلت في حلة عطارد إنما يلبسه من لا خلاق له في الآخرة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني لم أكسكها لتلبسها، وفي رواية: إنما أعطيتك لتكسو بعض نسائك»". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201622

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں