بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رہف نام رکھنے کا حکم


سوال

کیا رہف ( Rahaf) نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں رہف کے معنی باریک، نازک، دبلا، کمزور اور تیز ہونے کے ہیں،جیسے مرہوف البدن نازک لطیف، دبلے جسم والا ،اور رجل مرہف ذہین  آدمی، فرس مرہف کمزور گھوڑا  جو کہ بطور عیب کے بولا جاتا ہے،پس یہ لفظ اپنے مثبت پہلو کے لحاظ سے اچھے معنی رکھتا ہے ،لیکن منفی پہلو بھی اس میں ہیں ،نیز یہ نام مسلمانوں میں مستعمل بھی نہیں لہذا یہ نام نہ رکھا جائے، ازواج مطہرات اور صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے۔

لسان العرب میں ہے:

"رهف: الرهف: مصدر الشيء الرهيف وهو اللطيف الرقيق. ابن سيده: الرهف والرهف الرقة واللطف؛ أنشد ابن الأعرابي:حوراء، في أسكف عينيها وطف، ... وفي الثنايا البيض من فيها رهفأسكف عينيها: هدبهما؛ وقد رهف يرهف رهافة فهو رهيف؛ قال الأزهري: وقلما يستعمل إلا مرهفا. ورهفه وأرهفه، ورجل مرهف: رقيق. وفي حديثابن عباس: كان عامر بن الطفيل مرهوف البدنأي لطيف الجسم دقيقه. يقال: رهف فهو مرهوف، وأكثر ما يقال مرهف الجسم. وأرهفت سيفي أي رققته، فهو مرهف. وسهم مرهف وسيف مرهف ورهيف وقد رهفته وأرهفته، فهو مرهوف ومرهف أي رقت حواشيه، وأكثر ما يقال مرهف. وفي حديثابن عمر: أمرني رسول الله، صلى الله عليه وسلم، أن آتيه بمدية فأتيته بها فأرسل بها فأرهفتأي سنت وأخرج حداها. وفي حديثصعصعة بن صوحان: إني لأترك الكلام فما أرهف به،أي لا أركب البديهة ولا أقطع القول بشيء قبل أن أتأمله وأروي فيه، ويروى بالزاي من الإزهاف الاستقدام. وفرس مرهف: لاحق البطن خميصه متقارب الضلوع وهو عيب. وأذن مرهفة: دقيقة. والرهافة: موضع."

(ج:9، ص:128، ط:دار صادر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100853

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں