بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رگ میں انجیكشن سے روزے كا حكم


سوال

کیا رگ میں انجیکشن لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

روزے كے ٹوٹنے كے لیے معدے یا دماغ تك كسی چیز كا عمومی راستے (منہ، ناك وغیرہ) سے پہنچنا ضروری ہے، پس اگر كسی اور راستے سے دوا منتقل كی جائے تو بوقتِ ضرورت بلا كراہت جائز ہے ورنہ مكروہ عمل ہے۔ لہذا رگ میں انجیكشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في النهر؛ لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن والمفطر إنما هو الداخل من المنافذ."

(كتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم و ما لا یفسدہ، ج: 2، ص: 395، ط: حلبی)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100279

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں