
1. ایک لڑکی سعودیہ عرب سے پاکستان آئی ہے، حنفی مسلک سے تعلق رکھتی ہے، لیکن نماز میں رفع یدین کرتی ہے، ان کو منع کرو تو کہتی ہے کہ رفع یدین جائز ہے، حرمین شریفین میں بھی ہوتا ہے، ان کو کہا گیا کہ حنفی مسلک میں رفع یدین نہیں ہے تو کہنے لگی کہ کہاں لکھا ہے کہ دوسرے مسلک سے کوئی چیز نہیں اٹھا سکتے؟ میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا ایک مسلک کے لوگ دوسرے مسلک سے اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں؟ تفصیلی جواب درکار ہے۔
2. نذرو نیاز کے بارے میں بتائیں کہ اس کو بنانا، کھلانا اور کھانا جائز ہے یا نہیں؟
1. وتر اور عیدین کی نماز کے علاوہ عام نمازوں میں صرف تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت ہی رفعِ یدین کرنا مسنون ہے، اور یہ مسئلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے مختلف فیہ ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بعض صحابہ کرام رفع یدین کرتے تھے اوربعض نہیں کرتے تھے۔اسی وجہ سے مجتہدینِ امت میں بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہواہے،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ترکِ رفع یدین والی روایات کوراجح قراردیاہے،کئی اکابرصحابہ کرام کامعمول ترکِ رفع کاتھا،اوریہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاآخری عمل ہے۔ احناف کے نزدیک ترکِ رفع یدین ہی سنت ہے، اور یہ مسئلہ وجوب وعدمِ وجوب سے متعلق نہیں ہے؛ بلکہ صرف سنیت وافضیلت سے متعلق ہے، اس لیے اگر کوئی نماز میں رفع یدین کرلے گا تو اس کی نماز بھی ادا ہوجائے گی۔
لیکن حنفی مقلد کے لیے اپنے مسلک کی اقتدا کرنا ضروری ہے، غیر مقلدیت اختیارکرنا کسی حال میں درست نہیں ہے، اور خواہشِ نفسانی کی وجہ سے یا بلا ضرورت ایک امام کی تقلید چھوڑکر دوسرے امام کی تقلید جائز نہیں ہے، البتہ اگر کسی کو کسی امام کے مستدلات پر عبور حاصل ہو اور اس کے مستدلات سے اطمینانِ قلبی حاصل ہورہا ہو تو اس کے لیے اس امام کی تقلید کی گنجائش ہے، محض سہولت پسندی کی بنا پر یا علم سے بے بہرہ ہونے کے باوجود چند احادیث کا ترجمہ دیکھ کر مسلک تبدیل کرکے کسی بھی امام کے ہاں تقلید درست نہیں ہے، خصوصاً بر صغیر میں جہاں دیگر مسلک کے علماء کا ملنا دشوار ہے اور نہ ہی ان کی کتابیں ہماری زبان میں میسر ہیں ۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنی کتاب الإنصاف فی بیان اسباب الاختلاف میں فرماتے ہیں:
"فإذا کان إنسان جاهل في بلاد الهند وبلاد ماوراء النهر ولیس هناک عالم شافعي ولا مالکي ولا حنبلي ولا کتاب من کتب هذه المذاهب وجب علیه أن یقلد لمذهب أبي حنیفة ویحرم علیه أن یخرج من مذهبه بأنه حینئذ یخلع من عنقه ربقة الإسلام ویبقی سدی مهملاً".
(باب حكاية حال الناس قبل المائة الرابعة، صفحه: 79، طبع : دار النفائس)
ترجمہ: جب کوئی ناواقف عامی انسان ہند وستان اور ماوراء النہر کے شہروں میں ہو (کہ جہاں مذہب حنفی پر ہی زیادہ تر عمل ہوتا ہے) اور وہاں کوئی شافعی، مالکی اور حنبلی عالم نہ ہو اور نہ ان مذاہب کی کوئی کتاب ہو تو اس وقت اس پر واجب ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کی تقلید کرے اور اس پر حرام ہے کہ حنفی مذہب کو ترک کردے؛ کیوں کہ اس صورت میں (مذہبِ حنفی کو ترک کرنا) شریعت کی رسی اپنی گردن سے نکال پھینکنا ہے اور مہمل وبے کار بن جانا ہے۔
2. عموماً ہمارے معاشرہ میں لوگ نیاز میں بزرگوں کے ایصالِ ثواب کے لیے یا اپنے فوت شدہ اقارب کے لیے کھانا وغیرہ بنواکر(اس پر فاتحہ وغیرہ پڑھ کر )اسے تقسیم کرتے ہیں تو اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر یہ نیاز ان ہی بزرگوں کے نام کی ہو،ان کی خوشنودگی سے ان بزرگوں کا تقرب مقصود ہو تو یہ حرام ہے، اس کا کھانا بھی جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ نذر لغیر اللہ ہے۔ اور اگر یہ نیاز اللہ کے نام،اور اللہ کی رضا کے لیے ہو، صرف اس کا ثواب بزرگوں یا فوت شدگان کو پہنچایا جائے تو شرعا جائز ہے،لیکن چند شرائط ملحوظ رہیں:
1۔ اس کے لیے کوئی تاریخ ، دن وغیرہ کی تخصیص نہ کی جائے۔
2۔ اس کو لازم اور واجب نہ سمجھا جائے، اور نہ کرنے والوں پر لعن طعن نہ کی جائے۔
3۔ جائز نذر مانی گئی ہو تو جو کھانا کھلانا ہو وہ صرف فقراء کو کھلائے، مال داروں کو نہ کھلائے۔
4۔ کوئی خلافِ شرع کام اس کے ساتھ نہ ملائے۔
5۔ جن دنوں میں اہلِ بدعت وغیرہ کا شعار ہو ان دنوں میں یہ نہ کیا جائے۔
درج بالا شرائط کے ساتھ ایصال ثواب کے لیےنیاز کرنا جائز ہے۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك.
مطلب في النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام من شمع أو زيت أو نحوه (قوله تقربا إليهم) كأن يقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب أو الفضة أو من الطعام أو الشمع أو الزيت كذا بحر (قوله باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق. ومنها أن المنذور له ميت والميت لا يملك.
ومنه أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر، اللهم إلا إن قال يا الله إني نذرت لك إن شفيت مريضي أو رددت غائبي أو قضيت حاجتي أن أطعم الفقراء الذين بباب السيدة نفيسة أو الإمام الشافعي أو الإمام الليث أو اشترى حصرا لمساجدهم أو زيتا لوقودها أو دراهم لمن يقوم بشعائرها إلى غير ذلك مما يكون فيه نفع للفقراء والنذر لله عز وجل وذكر الشيخ إنما هو محل لصرف النذر لمستحقيه القاطنين برباطه أو مسجده فيجوز بهذا الاعتبار، ولا يجوز أن يصرف ذلك لغني ولا لشريف منصب أو ذي نسب أو علم، ما لم يكن فقيرا ولم يثبت في الشرع جواز الصرف للأغنياء للإجماع على حرمة النذر للمخلوق، ولا ينعقد ولا تشتغل الذمة به ولأنه حرام بل سحت ولا يجوز لخادم الشيخ أخذه إلا أن يكون فقيرا أو له عيال فقراء عاجزون فيأخذونه على سبيل الصدقة المبتدأة، وأخذه أيضا مكروه ما لم يقصد الناذر التقرب إلى الله تعالى وصرفه إلى الفقراء، ويقطع النظر عن نذر الشيخ بحر ملخصا عن شرح العلامة قاسم (قوله ما لم يقصدوا إلخ) أي بأن تكون صيغة النذر لله تعالى للتقرب إليه ويكون ذكر الشيخ مرادا به فقراؤه كما مر، ولا يخفى أن له الصرف إلى غيرهم كما مر سابقا ولا بد أن يكون المنذور مما يصح به النذر كالصدقة بالدراهم ونحوها، أما لو نذر زيتا لإيقاد قنديل فوق ضريح الشيخ أو في المنارة كما يفعل النساء من نذر الزيت لسيدي عبد القادر ويوقد في المنارة جهة المشرق فهو باطل، وأقبح منه النذر بقراءة المولد في المنابر ومع اشتماله على الغناء واللعب وإيهاب ثواب ذلك إلى حضرة المصطفى - صلى الله عليه وسلم."
(کتاب الصوم، جلد : 2، ص: 440، ط:سعید)
کفایت المفتی میں ہے:
"ایصال ثواب جائز و مستحسن ہے۔ اس کو کوئی ناجائز اور بدعت نہیں کہتا۔ لیکن ایصال ثواب کے لئے شریعت مقدسہ نے تعیین تاریخ و یوم اور تخصیص اشیاء نہیں کی ہے ۔ اس لئے مانعین کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو خدا تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے معین ومخصوص نہیں کیا اسے ہم بھی معین و مخصوص نہ کریں ۔ گیارھویں بارھویں سوم دہم چہلم وغیرہ لوگوں نے مقرر کر لیے ہیں ۔ ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ سے ان ایام کی تعیین و تخصیص منقول اور مروی نہیں ہے ۔ نہ ان بابرکت زمانوں میں یہ نام تھے ۔ اور نہ ان زمانوں میں ایصال ثواب کا کوئی اہتمام کیا جاتا تھا"۔
(کتاب العقائد، آٹھواں باب: اختلافی مسائل، فصلِ نہم: نذر و نیاز اور فاتحہ، 1/222، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100008
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن