بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ردی شدہ اوراق کا کیا کیا جائے؟


سوال

ذکر کی محفل کے بینر ،اسی طرح شادی کارڈ کے جس پر نام لکھے ہوتے ہیں،کیا ان کو جلایا جاسکتا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں ذکر کی محفل کے بینر ،اسی طرح شادی کارڈ کہ جس پر لفظ اللہ و رسول کا نام لکھا ہوا ہو یا اسی طرح دیگر مقدس کلمات ہوں تو ان کو جلانا جائز نہیں ہو گا، البتہ ان ناموں اور کلمات کی سیاہی کو مٹا کراسے جلانا جائز ہے،تاہم ملحوظ رہے کہ وہ اوراق جن میں اللہ تعالی یا نبی کریم ﷺ کا نام تحریر ہو یا  قرآن کی کوئی آیت ہو، یا کوئی حدیث مبارکہ تحریر ہو ،اس کا احترام تمام مسلمانوں پر ہر حال میں لازم ہے، چاہے وہ اوراق پڑھنے کے قابل ہو یا بوسیدہ ہوچکے ہوں، بہر حال ادب لازم ہے، لہذا ایسے اوراق کو اگر استعمال کے قابل نہ ہوں تو  اس کا حکم یہ ہے کہ:

1۔ان اوراق کو پاک کپڑے میں لپیٹ کر کسی پرانے ناقابل استعمال کنویں میں ڈال دیں، یاکسی پاک جگہ میں کھدائی کرکے پہلے مقدس اوراق کو رکھے جائیں پھر اس کے اوپر سلیٹ یا کوئی رکاوٹ ڈال کر پھر اس کے اوپرمٹی ڈال کر دفن کردیں، یا بغلی قبر بناکر دفن کردیں۔

اگر آپ خود ایسا نہیں کرسکتے تو کسی بھی ایسے با اعتماد ادارے کے حوالے کردیں ،جومقدس اوراق کو محفوظ جگہوں میں دفن کر دیتے ہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"الكتب ‌التي ‌لا ‌ينتفع ‌بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء

(قوله كما في الأنبياء) كذا في غالب النسخ وفي بعضها كما في الأشباه لكن عبارة المجتبى والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل اهـ."

                      (فتاویٰ شامی،ج: 6، ص: 422، ط: سعید) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101672

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں