
کیا ربیع الاول کے مہینے میں سیرت النبی کانفرنس کو مختص کرنا کیسا ہے؟ بعض مدارس میں لوگ ربیع الاول کے مہینہ میں ایک پروگرام منعقد کرتے ہیں ، اس کا کیا حکم ہے؟ بعض لوگ اس سے منع کرتے ہیں تاکہ اہل بدعت سے مشابہت نہ آجائے، آپ راہ نمائی فرمادیں۔
واضح رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری امت کے مُحسن ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ تمام مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کی سیرت کو اپنانا ایمان کا حصہ ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت واحوال، فضائل ومناقب اور حیات طیبہ کے مختلف گوشے اجاگرکرنا، اس پر بیان وتقریر کرناحتی کہ جس چیز کی ادنیٰ نسبت بھی نبی کریم ﷺکی جانب ہو اس کا ذکر یقیناً فعلِ مستحسن اور باعثِ اجروثواب ہے، لیکن یہ اسی وقت ہے جب کہ سنت وشریعت کے مطابق ہو۔
اسی نسبت سے اگر غیرشرعی امور (جیسے ویڈیو تصاویر، بدعات، مردوزن کے اختلاط، کسی تاریخ یا دن کا التزام، لوگوں کی ایذاء رسانی، نذر و نیاز وغیرہ) سے بچتے ہوئے سیرتِ طیبہ کی تقاریب منعقد کی جائیں، تو یہ باعثِ اجر و ثواب ہے اور مسلمانوں کے لیے سیرتِ طیبہ کے سیکھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا ذریعہ بھی ہے ۔
لیکن سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب بارہ ربیع الاول یا خاص ربیع الاول کے مہینہ میں ہی منعقد کرنے کا التزام کرنا اور اسی مخصوص دن اور مہینہ میں اس کو ضروری سمجھنا درست نہیں ، بلکہ اس التزام سے یہ عمل بدعت بن جائے گا، اور خاص بارہ ربیع الاول ہی کو مختص کرنا اہل بدعت سے مشابہت کا باعث بھی ہوگا، لہذا سال کے مختلف مہینوں میں سیرت کی تقاریب منعقد کی جائیں، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی مناسبت سے اگر ربیع الاول میں کرنی ہو تو کسی خاص دن کی تعیین نہ جائے اور نہ ربیع الاول میں اس تقریب کے انعقاد کو لازم اور ضروری سمجھا جائے ، اور ربیع الاول کے متفرق دنوں میں کسی تعیین کے بغیر یہ سیرت منعقد کرلی جائے تو یہ جائز ہوگا۔
البحر الرائق لابن نجیم میں ہے:
"ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به؛ لأنه خلاف المشروع."
(كتاب الصلوة ،باب العيدين ،باب مايفعله عيد الفطر،ج:2،ص:172 ،ط:دارالكتب العلمية)
العقود الدریہ فی الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"كل مباح يؤدي إلى زعم الجهال سنية أمر أو وجوبه فهو مكروه."
(فائدة الاعتماد على ما وقع في كتبنا من العبارات الفارسية،ج:2،ص:333 ،ط:دارالمعرفة)
الاعتصام للشاطبی میں ہے:
"ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته."
(الباب الأول، ج:1، ص:53، ط؛دار ابن عفان)
کفایت المفتی میں ہے :
’’ماہ ربیع الاول میں مجالس وعظ وتبلیغ منعقد کرنا :
(سوال) ماہ ربیع الاول میں مجالس ِ وعظ وتبلیغ منعقد کرنا جن میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طاہرہ اور آپ کے فضائل و مناقب بیان کرنا دینی اور دنیوی حیثیت سے باعث خیر و برکت ہے یا نہیں ؟
(جواب )حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کا ذکر کرنا دینی حیثیت سے موجب خیر و برکت ہے ،اور دنیاوی حیثیت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب اور کمالات کی تبلیغ و اشاعت بے حد مفید ہے، اور انسانیت کی بیش بہا خدمت ہے، لیکن اس کے لیے ماہ ربیع الاول یا اس مہینے کی کسی تاریخ کی تخصیص نہیں،بلکہ سال بھر کے تمام مہینے اور تمام ایام میں یہ خدمت انجام دینا اور اس عمل خیر کو عمل میں لانا یکساں موجبِ ثواب ہے، نیز اس مجلس کی حیثیت بھی مجلس وعظ و تذکیر کی حیثیت ہے، نہ کہ عید و جشن میلاد کی اور یہ بھی لازم ہے کہ اس کو بدعات مروجہ سے محفوظ اور پاک رکھا جائے ،عام طور سے مجالس سیرت کے نام سے لوگ میلاد مروج کے جلسے کرتے اور ان میں وہ تمام بدعات جو قدیم مبتدعین کیا کرتے تھے عمل میں لاتے ہیں یہ باتیں مذموم ہیں اور مجلس کے اصل مقصد کے خلاف ہیں، اس کے فائدہ کو تباہ کر دیتی ہیں۔‘‘
(کتاب العقائد ،ج:1،ص:150 ،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703100312
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن