
ہم تین آدمیوں نے مل کر کاروبار شروع کیا ،جس میں میں اور میرا ایک ساتھی رب المال تھے ،میں نے اس کاروبار میں -جو کہ چادر فروخت کرنے کاکاروبار تھا- 59ہزار درہم لگائے تھے ،جبکہ میرے دوسرے ساتھی نے 39 ہزار درہم لگائے تھے ،ہمارے ساتھ ایک تجربہ کار مضارب تھا جو کہ اپنے تجربہ کی بنیاد پر ہمارے ساتھ کام کرتاتھا۔
اس کاروبار کے شروع ہوتے ہوئے میں نے اپنے رب المال ساتھی اور مضارب ساتھی سے یہ کہاتھا کہ اس کاروبار کے منافع ہم تین حصوں پر تقسیم کریں گے :ایک حصہ مضارب کا ہوگا اور ایک حصہ میرا ہوگا، ایک حصہ میرے رب المال ساتھی کاہوگا، بشرطیکہ ہم دونوں ساتھی برابر برابر پچاس ہزار درہم جمع کریں، اس پر میرا ساتھی تیار ہوا، لیکن اس کے باوجود اس نے پیسے کم جمع کیے تومیں نے ان سے کہا کہ یاتو مجھے بیس ہزار درہم واپس دے دو ؛تاکہ دونوں کے چالیس ہزار درہم ہوجائیں یاپھر میرے سرمایہ کے بقدر مجھے منافع دے دو تو اس پر اتفاق ہوا کہ تمہیں سرمایہ کے اعتبار سے زیادہ نفع دیں گے تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، لیکن جب معاملہ ختم ہوا تو مجھے میرے سرمایہ کے بقدر منافع نہیں دیا۔
کیا ان کےلیے شرعا ایساکرنادرست تھا ؟کیا ان کےلیے جائز تھا کہ وہ میرے حق کو اپنے پاس روک لیں؟
دوسری بات یہ ہے کہ مضارب کےلیے تو ہم نےنفع میں سے ایک حصہ متعین کردیا تھا ،پھراس کے باوجود اس نے ماہانہ پچیس سو درہم بطور تنخواہ وصول کیے ہیں جو کہ ان سات مہینوں کے 17500 درہم ہوتے ہیں ۔
کیا مضارب کا اپنے لیے تنخواہ لینا شرعادرست تھا؟اگر درست نہیں تھا تو اس کی کونسی درست صورت ہوسکتی ہے؟
صورت مسئولہ میں جب اس پر اتفاق ہوگیا کہ آپ کو سرمایہ کے بقدر زیادہ نفع دیاجائے گا لیکن معاملہ ختم ہونے پرآپ کو سرمایہ کے بقدر نفع نہیں دیا گیابلکہ کم دیاگیاتویہ شرعا درست نہیں ،سرمایہ کے بقدر نفع کےآپ حق دار ہوں گے ،ان کےلیے آپ کاحق روکنا جائز نہیں ۔
نیز مضارب کا تنخواہ وصول کرناجائز نہیں ،جتناوصول کیا ہے وہ واپس کرے ،البتہ اگر پہلے سےمضارب کےلیے نفع میں سے زیادہ حصہ مقرر کیاجاتاتو یہ جائز ہوتا۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"المادة: لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المقالة الثانیة،ج:1،ص:98،ط:دار الجيل)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة... ولم يذكر أن لأحدهم أجرا؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان ."
(کتاب الشرکة،فصل فی الشركة الفاسدة،ج:4،ص: 326،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100836
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن