بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رات بارہ بجے تک بیوی سے ہمبستری کو خود پر حرام قرار دینے کے بعد بارہ بجے سے پہلے بیوی سے ہمبستری کرنے کا حکم


سوال

 میاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہوا ،اس دوران شوہر نے کہا کہ آج رات بارہ بجے تک تم مجھ پر ہمبستری کے لیے حرام ہو، کچھ ٹائم بعد شوہر اور بیوی کی صلح ہو گئی اور شوہر نے بارہ بجے سے پہلے ہم بستری کرلی، شوہر نے مقامی کسی عالم کو یہ مسئلہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ قسم کا کفارہ ادا کرلیں، اس دوران سات سال گزر گئے، اب سات سال بعد اہلیہ نے کسی کو یہ مسئلہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے حرام کی زندگی گزاری ہے، دوبارہ نکاح کرنا ہوگا،راہ نمائی فرمائیں!

شوہر نے رات بارہ بجے تک ہمبستری کے لیے لفظ حرام کہا تھا،   طلاق کا خیال ذہن میں نہیں تھا اور نہ ہی طلاق کا ارادہ تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر نے بیوی کو جو الفاظ کہے تھے کہ " آج رات بارہ بجے تک تم مجھ پر ہمبستری کے لیے حرام ہو" ان الفاظ کی وجہ سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی، البتہ چوں کہ کسی حلال کام کو خود پر حرام قرار دینا اس کام کے نہ کرنے کی قسم کھانے کے حکم میں ہے اس لیے گویا کہ شوہر نے بیوی کو یہ کہا تھا کہ قسم سے آج رات بارہ بجے تک میں تم سے ہمبستری نہیں کروں گا، لہٰذا چوں کہ شوہر نے بارہ بجے سے پہلے ہمبستری کرلی تھی اس لیے اس پر قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگیا تھا۔
قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اگر مالی استطاعت ہے تو دس غریبوں کو کپڑوں کا جوڑا دے، یا دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر کے برابر رقم دے دے، یا ایک ہی مسکین کو دس دن تک دو وقت کھانا کھلائے یا اسے دس دن تک روزانہ ایک ایک صدقہ فطر کی رقم دیتارہے، اور اگر اتنی استطاعت نہ ہو تو پھر قسم کے کفارے کی نیت سے لگاتار  تین دن روزے رکھے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (سورۃ: المائدة، آیت: 89)

ترجمہ:"اللہ تعالی تم سے مواخذہ نہیں فرماتے تمہاری قسموں میں لغو قسم پر لیکن مواخذہ اس پر فرماتے ہیں کہ تم قسموں کو مستحکم کرو۔سو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا اوسط درجہ کا جو اپنے گھر والوں کو کھانے کو دیا کرتے ہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا اور جس کو مقدور نہ ہو تو  تین دن  کے روزے ہیں ۔ یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جب کہ تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کا خیال رکھا کرو ۔ اسی طرح اللہ تعالی تمہارے لیے اپنے احکام  بیان فرماتے ہیں تاکہ تم شکر کرو۔" (بیان القرآن ، ج:1 ،ص:510، ط: مکتبہ رحمانیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ومن حرم) أي على نفسه لأنه لو قال إن أكلت هذا الطعام فهو علي حرام فأكله لا كفارة خلاصة، واستشكله المصنف (شيئا) ولو حراما أو ملك غيره كقوله الخمر أو مال فلان علي حرام فيمين ما لم يرد الإخبار خانية (ثم فعله) بأكل أو نفقة، (كفر) ليمينه، لما تقرر أن تحريم الحلال يمين، ومنه قولها لزوجها أنت علي حرام أو حرمتك على نفسي، فلو طاوعته في الجماع أو أكرهها كفرت مجتبى.

(قوله: ليمينه) أي لأجل يمينه التي حنث بها، فهو علة لقوله كفر، وقوله لما تقرر إلخ علة لكون ذلك يمينا فهو علة للعلة. ولا يرد عليه أن تحريم الحلال قد لا يكون يمينا بأن قصد الإخبار لأنه إذا قصد الإخبار لم يوجد التحريم لأن التحريم إنشاء والإخبار حكاية فافهم، ودليل كون التحريم يمينا مبسوط في الفتح وغيره."

(كتاب الأيمان،ج:3، ص: 729، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"[تنبيه] : قال الخير الرملي في حاشية المنح في كتاب الأيمان: أقول: أكثر عوام بلادنا لا يقصدون بقولهم أنت محرمة علي، أو حرام علي أو حرمتك علي إلا حرمة الوطء المقابل لحله، ولذلك أكثرهم يضرب مدة لتحريمها، ولا يريد قطعا إلا تحريم الجماع إلى هذه المدة، ولا شك أنه يمين موجب للإيلاء تأمل، فقل من حقق هذه المسألة على وجهها، وانظر إلى قولهم ولا نقول لا تشترط النية، لكن يجعل ناويا عرفا، فهو صريح في اعتبار العرف فإن لم يكن العرف كذلك بل كان مشتركا تعين اعتبار النية وتصديق الحالف كما هو مذهب المتقدمين اهـ. وفي أيمان الفتح: وقال البزدوي في مبسوطه: لم يتضح لي عرف الناس في هذا: أي في " كل حل علي حرام " لأن من لا امرأة له يحلف به كما يحلف ذو الحليلة، ولو كان العرف مستفيضا في ذلك لما استعمله إلا ذو الحليلة فالصحيح أن نقول إن نوى الطلاق يكون طلاقا من غير دلالة فالاحتياط أن يقف الإنسان فيه ولا يخالف المتقدمين.

واعلم أن مثل هذا اللفظ لم يتعارف في ديارنا بل المتعارف فيه " حرام علي كلامك " ونحوه كأكل كذا ولبسه دون الصيغة العامة، وتعارفوا أيضا: الحرام يلزمني، ولا شك في أنهم يريدون الطلاق معلقا فإنهم يزيدون بعده لا أفعل كذا فهي طلاق، ويجب إمضاؤه عليهم. والحاصل أن المعتبر في انصراف هذه الألفاظ - عربية، أو فارسية - إلى معنى بلا نية التعارف فيه، فإن لم يتعارف سئل عن نيته وفيما ينصرف بلا نية لو قال أردت غيره يصدق ديانة لا قضاء اهـ ما في الفتح، وتبعه في البحر. قلت: والمتعارف في ديارنا إرادة الطلاق بقولهم: علي الحرام لا أفعل كذا دون غيره من الألفاظ المذكورة."

(كتاب الطلاق،باب الإيلاء،مطلب في قوله أنت علي حرام،ج:3، ص:435، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

" الفصل الثاني في الكفارة: وهي أحد ثلاثة أشياء إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة أو إطعامهم والإطعام فيها كالإطعام في كفارة الظهار هكذا في الحاوي للقدسي. وعن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى إن أدنى الكسوة ما يستر عامة بدنه حتى لا يجوز السراويل وهو صحيح كذا في الهداية. فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات."

(كتاب الطلاق، الفصل الثاني في الكفارة، 2/ 61، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702102109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں