بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

راستے میں خرید و فروخت کے لیے کرسیاں رکھنے کا شرعی حکم


سوال

کسی مسجد کا وضوخانہ ضرورت نہ رہنے کی بنا پر مسمار کرکے اس جگہ کو کسی بریانی والے کو کرایہ پر دینا کیا درست ہے؟ جب کہ بریانی والے نے وہاں کرسیاں لگا کر فٹ پاتھ تک گھیر لیا ہے، جس کے باعث گزرنے کا راستہ تنگ ہوگیا اور لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے۔ ایسی صورت میں خصوصاً جب پہلے سے معلوم ہو کہ اس کاروبار کی وجہ سے راستہ اور فٹ پاتھ تنگ ہوگا اور عوام کو تکلیف ہوگی، کیا اس جگہ کو کرایہ پر دینا درست تھا؟ نیز اس کرایہ سے حاصل ہونے والی آمدنی جو مسجد میں آتی ہے اس کا کیا حکم ہے؟

وضاحت: مسجد کے لیے نیا وضوخانہ بنایا گیا ہے، اور قدیم وضوخانہ ختم کرکے اس جگہ دکان بناکر کرایہ پر دی گئی ہے، اور کرایہ مسجد کی ضروریات میں خرچ کیا جاتا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد کا قدیم وضوخانہ ختم کرکے اس جگہ دکان بنانا، اس کو کرایہ پر دینا، اور کرایہ  کی رقم مسجد کی ضروریات میں صرف کرنا جائز ہے، البتہ  دکاندار کے لیے راستہ بلاک کرنا، اور آنے جانے والوں کے لیے پریشانی کا سامان کرنا ناجائز ہے، جس سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے، کیوں کہ رسول کریم ﷺ نے راستوں میں بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، نہایت مجبوری میں بیٹھنے کی صورت میں بھی راستہ کے حقوق کی پاسداری کا پابند کیا ہے، جیسا که صحیح البخاری میں ہے:

"عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌إياكم ‌والجلوس ‌على ‌الطرقات، فقالوا: ما لنا بد، إنما هي مجالسنا نتحدث فيها، قال: فإذا أبيتم إلا المجالس، فأعطوا الطريق حقها، قالوا: وما حق الطريق؟ قال: غض البصر، وكف الأذى، ورد السلام، وأمر بالمعروف، ونهي عن المنكر."

(‌‌كتاب المظالم، ‌‌باب أفنية الدور والجلوس فيها والجلوس على الصعدات، صحیح البخاري، 132/3، ط:السلطانية)

”حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔صحابہ نے عرض کیا: ہمیں تو بیٹھنے سے چارہ نہیں، یہی تو ہماری بیٹھکیں ہوتی ہیں جن میں ہم گفتگو کرتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم نے بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔صحابہ نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہیں نیچی رکھنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا“۔

نیز دکان سے باہر فٹ پاتھ بلاک کرکے کاروبار کرنا منع ہے؛ اس لیے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے، ورنہ دکان دار گناہ گار ہوگا،  البتہ   کرایہ کی مد میں جو رقم مسجد کو حاصل ہورہی ہے، وہ مسجد کے مصارف میں خرچ کرنا جائز ہے؛ کیونکہ کرائے کی یہ رقم مسجد کی جگہ کے عوض میں ہے راستے کی جگہ کے عوض میں نہیں ہے۔

احکام القرآن( لظفر احمد عثمانیؒ) میں ہے:

" قوله  تعالى : « يا أا الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم »

أخرج أبو شيبة وغيره عن أبى هريرة « أولى الأمر منكم » هم الأمراء › وفي لفظ : هم أمراء سرايا. هذا لفظ عام يشتمل الملوك، و أمراء الأمصار والقضاة، و أمراء السرايا و الجيوش. قال على رضى الله عنه : « حق على الإمام أن يحكم بما أنزل الله، و يؤدى الأمانة ؛ فإذا فعل ذلك فحق على الرعية أن يسمعوا و يطيعوا ». عن حذيفة رضى الله عنه قال : قال رسول الله صل الله عليه و سلم: « اقتدوا بالذين من بعدى أبى بكر و عمر » رواه الترمذى.‏ و عن أبی ھریرة رضی اللہ تعالی عنه : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أطاعنى فقد أطاع الله، و من عصانى فقد عصى الله، و من يطع الأمير فقد أطاعنى، و من يعص الأمير فقد عصانى. متفق عليه ( و الأحاديث فى إطاعة الأمير كثيرة مشهورة قد ذ كر المظهرى نبذاً منها ثم قال ) :  الأمر يشتمل الأمراء والقضاة والزوج وغيرهم."

( ج:2، ص:291، ط:إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"‌طاعة ‌الإمام في غير معصية ‌واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ."

(‌‌كتاب القضاء، ج:5، ص:422،  ط:سعید)

الاشباه والنظائر ميں ہے:

"تصرف الإمام على الرعية منوط بالمصلحة."

(الفن الأول: القواعد الكلية، القاعدة الخامسة، ص:104، ط:دار الكتب العلمية)

المحیط البرھانی میں ہے:

"وسئل أبو القاسم عمن يبيع ويشتري في الطريق قال: ‌إن ‌كان ‌الطريق ‌واسعاً ولا يكون في قعوده ضرر للناس فلا بأس، وعن أبي عبد الله القلانسي أنه كان لا يرى بالشراء منه بأساً وإن كان بالناس ضرر في قعوده، والصحيح هو الأول؛ لأنه إذا علم أنه لا يشتري منه لا يبيع على الطريق فكان هذا إعانة له على المعصية وقد قال الله تعالى: {ولا تعاونوا على الاثم والعدوان} () وبعض مشايخنا قالوا: لا تجوز له العقود على الطريق وإن لم يكن للناس في قعوده ضرر ويصير بالقعود على الطريق فاسقاً؛ لأن الطريق ما اتخذ للجلوس فيه إنما اتخذ للمرور فيه."

(كتاب البيع، ‌‌الفصل الخامس والعشرون: في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة وما جاء فيها من الرخصة، ج:7، ص:140، ط:دار الكتب العلمية)

النھایۃ شرح الھدایہ میں ہے:

"وعلى هذا لو قعد الرجل في الطريق يبيع ويشتري ‌إن ‌كان ‌الطريق ‌واسعا لا يتضرر الناس بقعوده جاز له أن يقعد، وإن كان فيه ضرر بالناس لا يجوز له القعود."

(کتاب الدیات، الإحداث في الطریق، ج:24، ص:250، :ط:النشر بالشاملة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100314

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں