
زید نے بکر کو 18 لاکھ کا ایک جھولا بطور شرکت کے خرید کر دیا جو پارک میں لگا ہوا ہے ،اور اس میں راس المال صرف زید کا ہے اور بکر صرف کام کرے گا،لیکن اس میں زید نے یہ شرط رکھی ہے کہ جب تک راس المال پورا نہیں ہوتا ہے ساری کمائی زید کی ہوگی ،اس میں بکر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔
جب راس المال پورا ہوگا تو جھولا اور اس کے بعد کی کمائی میں دونوں شریک ہوں گے اور جھولا اور نفع نقصان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا ۔
اب میر ا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی شرکت جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں زید کا اپنی رقم سے جھولا خرید کر بکر کو دینا اور یہ کہنا کہ"جب تک اس کی رقم مکمل نہیں ہوگی ساری کمائی زید کی ہوگی"،شرعاً جائز نہیں ہے،بلکہ اس عرصہ میں بکر نے جو محنت کی ہے عرف کے مطابق وہ اجرت کا مستحق ہو گا۔
نیز مذکورہ معاہدہ چونکہ فاسد ہے؛ لہذا بکر کی گذشتہ مدت کی اجرت ادا کرنے کے بعد از سر نو معاہدہ کر لیا جائے، جس کے تحت بکر کے لئے یومیہ یا ماہانہ اجرت طے کر لی جائے اور بکر اسی اجرت کا مستحق ہوگا،نقصان کا ذمہ دار بکر کو ٹھہرانا جائز نہیں ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"لو دفع دابته إلى رجل ليؤاجرها على أن الأجر بينهما كانت الشركة فاسدة، فإن آجر الدابة كان جميع الأجر لصاحب الدابة وللآخر أجر مثل عمله، ولو دفع دابة إلى رجل ليبيع عليها البز والطعام على أن الربح بينهما كانت الشركة فاسدة بمنزلة الشركة بالعروض، وإذا فسدت كان الربح لصاحب الطعام والبز ولصاحب الدابة أجر مثلها، والبيت والسفينة في هذا كالدابة، هكذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الشرکۃ، الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ، ج:6، ص:334،ط:دار الفكر بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد، أشباه.
(قوله: ومرمة الدار أو مغارمها) قال في البحر: وفي الخلاصة معزياً إلى الأصل: لو استأجر داراً على أن يعمرها ويعطي نوائبها تفسد؛ لأنه شرط مخالف لمقتضى العقد اهـ. فعلم بهذا أن ما يقع في زماننا من إجارة أرض الوقف بأجرة معلومة على أن المغارم وكلفة الكاشف على المستأجر أو على أن الجرف على المستأجر فاسد كما لايخفى اهـ. أقول: وهو الواقع في زماننا، ولكن تارةً يكتب في الحجة بصريح الشرط فيقول الكاتب: على أن ما ينوب المأجور من النوائب ونحوها كالدك وكري الأنهار على المستأجر، وتارةً يقول: وتوافقا على أن ما ينوب إلخ. والظاهر أن الكل مفسد؛ لأنه معروف بينهم وإن لم يذكر، والمعروف كالمشروط، تأمل."
(كتاب الإجارة، ج:6، ص:46، ط:سعيد)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"ولو استأجر داراً بأجرة معلومة وشرط الآجر تطيين الدار ومرمتها أو تعليق باب عليها أو إدخال جذع في سقفها على المستأجر فالإجارة فاسدة؛ لأن المشروط يصير أجرةً وهو مجهول فتصير الأجرة مجهولةً، وكذا إذا آجر أرضاً وشرط كري نهرها أو حفر بئرها أو ضرب مسناة عليها؛ لأن ذلك كله على المؤاجر، فإذا شرط على المستأجر فقد جعله أجرةً وهو مجهول فصارت الأجرة مجهولةً."
(كتاب الإجارة، ج:4، ص:194 ، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701102175
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن