
تین بھائیوں اور ایک بہن کے درمیان جائیداد کی تقسیم ہوئی،ساری تقسیم رضامندی سے ہوئی،تقسیم رضامندی سے اس طرح ہوئی کہ تین فلیٹ تھے جو تینوں بھائیوں کو ایک ایک ملنا تھا، چنانچہ تینوں بھائیوں نے یہ طے کیا کہ تین فلیٹوں کی پرچی کریں گے،جس کے نصیب میں جو آئے گا، وہ اسے مان لیں گے، پرچی کرنے سے پہلے یہ مشورہ دیا گیا کہ ایک فلیٹ کی قیمت تھوڑی کم ہے، اس لیے اس کے ساتھ کچھ اور دیا جائے، لیکن تینوں بھائیوں نے انکار کر دیا اور کہا: "جس کے نصیب میں جو ہوگا، وہی وہ مانے گا"، چناں چہ سب بھائی (قرعہ اندازی) پر رضامند ہو گئے، پرچی ہونے کے بعد سب کے حصے میں ایک ایک فلیٹ آیا، اور دستاویزات تیار ہو گئیں، تینوں بھائیوں اور ایک بہن نے دستاویزات پر دستخط بھی کر لیے، اور سب راضی ہو گئے، سب بھائیوں کی مشترکہ رقم سے اس فلیٹ پر کام کروایا گیا جس پر اب ایک بھائی اعتراض کر رہا ہے کہ یہ گھر چھوٹا ہے،جب پرچی ہوئی تو اس میں صرف تین بھائی تھے، اور انہوں نے آپس میں پرچی کر لی، پھر جو گواہ تھے، انہوں نے سب بھائیوں سے تصدیق کروا کر دستاویزات پر دستخط کیے،اب وہ بھائی یہ اعتراض کر رہا ہے کہ جس نے اپنے فلیٹ پر 1لاکھ روپے لگائے، اس کے مقابلے میں جو فلیٹ مجھے ملا وہ چھوٹا ہے،مجھے اس کے ساتھ کچھ اور دیا جائے،نیز ایک بھائی کا انتقال بھی ہو گیا ہے جو معاہدے پر بالکل راضی تھا۔بہن کو اس کا پورا حصہ دے دیا گیا۔
سوالات: 1: کیا یہ جو قرعہ اندازی ہوئی، سب بھائیوں کی رضامندی سے کی گئی، وہ اسلامی شریعت کے مطابق جائز ہے؟
2. کیا اس بھائی کو مزید حصہ دیا جائے جس کی وہ مانگ کر رہا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب تین بھائی جائیداد میں موجود تین فلیٹوں کی تقسیم پر آپس میں متفق ہوگئے، اور سب نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی کہ تینوں بھائی ان فلیٹوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے آپس میں تقسیم کریں گے،نیز قرعہ اندازی سے پہلے سب بھائی اس بات پر متفق ہوگئے کہ "جس کے حصے میں جو فلیٹ آئے گا، وہی اس کا ہوگا" اور قرعہ اندازی کے بعد گواہوں سب بھائیوں سے اپنی اپنی قرعہ کے مطابق تصدیق کرواکردستاویزات پر دستخط کروادی، تو اب کسی کو اس پر اعتراض یا مطالبہ کا کوئی حق حاصل نہیں رہا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تینوں فلیٹوں تمام بھائیوں کی باہمی رضامندی سے جو قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم ہوگئی، وہ شرعاً درست اور جائز ہے۔اب جس بھائی کے حصے میں قدرے چھوٹا فلیٹ آیا، وہ اب اس بنیاد پر کہ "میرا فلیٹ چھوٹا ہے، مجھے مزید کچھ دیا جائے" کہہ کر شرعاً یا اخلاقاً کسی قسم کا مطالبہ کرنے یا اعتراض کرنے کا مجاز نہیں، کیوں کہ قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم باہمی رضامندی سے مکمل ہو چکی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويكتب أساميهم ويقرع) لتطيب القلوب(فمن خرج اسمه أولا فله السهم الأول، ومن خرج ثانيا فله السهم الثاني إلى أن ينتهي إلى الأخير و) اعلم أن (الدراهم لا تدخل في القسمة) لعقار أو منقول (إلا برضاهم)
مطلب في الرجوع عن القرعة [تنبيه]إذا قسم القاضي أو نائبه بالقرعة فليس لبعضهم الإباء بعد خروج بعض السهام."
(كتاب القسمة،ج:6،ص: 262،ط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:
"مطلب في الرجوع عن القرعة
إذا قسم القاضي أو نائبه بالقرعة فليس لبعضهم الإباء بعد خروج بعض السهام كما لا يلتفت إلى إبائه قبل خروج القرعة، ولو القسمة بالتراضي له الرجوع إلا إذا خرج جميع السهام إلا واحدا لتعين نصيب ذلك الواحد وإن لم يخرج، ولا رجوع بعد تمام القسمة نهاية."
(كتاب القسمة،ج:6،ص: 263،ط:ایچ ایم سعید)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"ومنها اللزوم بعد تمامها في النوعين جميعا، حتى لا يحتمل الرجوع عنها إذا تمت.وأما قبل التمام فكذلك في أحد نوعي القسمة، وهو قسمة القضاء دون النوع الآخر، وهو قسمة الشركاء، بيان ذلك:أن الدار إذا كانت مشتركة بين قوم فقسمها القاضي أو الشركاء بالتراضي فخرجت السهام كلها بالقرعة؛ لا يجوز لهم الرجوع، وكذا إذا خرج الكل إلا سهم واحد؛ لأن ذلك خروج السهام كلها؛ لكون ذلك السهم متعينا بمن بقي من الشركاء، وإن خرج بعض السهام دون البعض فكذلك في قسمة القضاء؛ لأنه لو رجع أحدهم لأجبره القاضي على القسمة ثانيا فلا يفيد رجوعه."
(کتاب القسمة،فصل فی صفات القسمة،ج:7،ص:28،ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی دار العلوم دیو بند میں ہے:
"سوال: دو شخص نے ایک زمین مشترکہ کا ٹھیکہ لیا، بعدہ اپنی رضا مندی سے تقسیم کر لی جس کو پچاس برس گزر چکے ، اب چوں کہ زمین با وقعت ہوگئی ہے تو وہ فریق جس کے پاس کچھ زمین کم ہے وہ کہتا ہے کہ مجھے زمین پوری برابر کر دو، اس صورت میں شرعا کیا حکم ہے؟
الجواب: جب کہ پہلے باہمی رضا مندی سے زمین مذکور تقسیم کر لی گئی تو اب کوئی فریق کسی دوسرے فریق پر کچھ دعوی نہیں کر سکتا ۔"
(کتاب الشرکۃوالقسمۃ،ج:13،ص:93،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101496
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن