
عیدالاضحیٰ میں جو قربانی ہے، یہ قربانی فرض ہے یا واجب ہے یا سنت ہے؟ اور کیا یہ قربانی قرآن کریم سے یا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے؟
قربانی قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، چناچہ قرآن پاک میں اللہ رب العزت کا ارشادہے"فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ"، اس آیت میں "وَانْحَرْ" سے مراد قربانی ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن سینگوں والے سیاہ وسفید دھبے دار خصی دو مینڈھے ذبح کیے۔
اورصاحب نصاب آدمی پر قربانی واجب ہے، اور اس کا واجب ہونا بھی قرآن و حدیث مبارکہ سے ثابت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایہ کہ جس کو وسعت ہے اور وہ قربانی نہ کرے، تو ہمارے مصلی(عید گاہ) کے قریب نہ آئے۔
تفسير الألوسي روح المعاني میں ہے
"والأكثرون على أن المراد بالنحر نحر الأضاحي واستدل به بعضهم على وجوب الأضحية."
(سورة الكوثر، ج:15، ص:481، ط:دار الكتب العلمية بيروت)
سنن ابی داؤد میں ہے:
"عن جابر بن عبدالله، قال: ذبح النبي صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين أملحين موجئين".
(سنن أبي داود، باب ما یستحب من الضحایا 2/30، ط: حقانیه ملتان)
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن سینگوں والے سیاہ وسفید دھبے دار خصی دو مینڈھے ذبح کیے۔
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا."
(باب الأضاحي، واجبة هي أم لا،ج:2،ص:1044، ط:دار إحياء الكتب العربية)
ترجمہ:"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایہ کہ جس کو وسعت ہے اور وہ قربانی نہ کرے، تو ہمارے مصلی(عید گاہ) کے قریب نہ آئے۔"
فتاوی شامی میں ہے:
"واعلم أنه قال في البدائع: ولو نذر أن يضحي شاة وذلك في أيام النحر وهو موسر فعليه أن يضحي بشاتين عندنا شاة بالنذر وشاة بإيجاب الشرع ابتداء."
(كتاب الأضحية،ج:6، ص:320، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102390
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن