بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 صفر 1448ھ 18 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی نہ کرنے پر سزا


سوال

قربانی نہ کرنے پر کیاسزا ہے؟

جواب

قربانی ایک بہت اہم عبادت ہے، قرآن کریم میں قربانی کو شعار اسلام میں سے شمار کیا گیا ہے، احادیث مبارکہ میں اس عمل پر بہت بڑےبڑے فضائل کا ذکر آیا ہے۔ اور مسلمان تو ایک ایک نیکی کا حریص ہوتا ہے، مگر اتنے بڑے عمل کا موقع ملنے کے باوجود اس کی ادائیگی میں وہ کوتاہی کرے، یہ کم نصیبی کی بات  ہے۔ مزید یہ کہ قربانی صاحبِ نصاب آدمی کے لیے ایک وجوبی فریضہ ہے، اور وجوبی فریضہ کو ادا نہ کرنے والا صرف ثواب سے ہی محروم نہیں ہوگا، بلکہ گناہِ کبیرہ کا مستحق بھی ہوگا۔

لہذا اگر کسی نے صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی ہو تو وہ اپنی اس غفلت پر اللہ تعالی سے صدقِ دل سے توبہ کرے اور جتنے سالوں سے قربانی واجب ہونے کے بعد بھی قربانی نہیں کی تو ہر ایک سال کے عوض قربانی کے متوسط جانور کی  یا  بڑے جانور کے ایک حصے  کی قیمت صدقہ کرنا اس پر ضروری ہے۔

مشکاۃ شریف میں ہے:

" وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما عمل ابن آدم من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم وإنه ليؤتى يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها وإن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع بالأرض فيطيبوا بها نفسا."..." عن زيد بن أرقم قال: قال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله ما هذه الأضاحي؟ قال: "سنة أبيكم إبراهيم عليه السلام". قالوا: فما لنا فيها يا رسول الله؟ قال: "بكل شعرة حسنة" . قالوا: فالصوف يا رسول الله؟ قال: "بكل شعرة من الصوف حسنة ."

(کتاب الصلاۃ، باب في الأضحية، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 131، ط: رحمانیة)

ترجمہ:  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا راوی ہیں کہ رسول کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ " ابن آدم کا نحر (یعنی قربانی) کے دن ایسا کوئی عمل نہیں جو خدا کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب ہو، اور (قربانی کا) وہ ذبح کیا ہوا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون قبل اس کے کہ زمین پر گرے [یعنی ذبح کرنے کے ارادہ کے وقت ہی) بارگاہ خداوندی میں قبول ہو جاتا ہے۔ لہذا تم اس کی وجہ سے (یعنی قربانی کر کے) اپنے نفس کو خوش کرو."

حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلى الله عليه وسلم کے اصحاب نے دریافت کیا کہ "یا رسول اللہ ! یہ قربانی کیا ہے ؟" آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ " تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ (یعنی ان کی سنت) ہے۔ " صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ا پھر اس میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟ فرمایا "(گائے اور بکری کی قربانی کرنے میں کہ جن کے بال ہوتے ہیں) ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ہے". انہوں نے عرض کیا کہ ”صوف" (یعنی دنبہ، بھیڑ اور اونٹ کی اون اور اس کے بدلہ میں کیا ثواب ملتا ہے) ؟ فرمایا ” اون کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔" 

سنن ابن ماجہ میں ہے:

" عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من كان له سعة ولم يضح، فلا يقربن مصلانا".

( [باب]الأضاحي واجبة هي أم لا، ج: 4، ص: 554، ط: دارالجیل)

ترجمہ: "جو شخص صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے"

بدائع الصنائع میں ہے:

" ولو كان موسرا في جميع الوقت فلم يضح حتى مضى الوقت ثم صار فقيرا صار قيمة شاة صالحة للأضحية دينا في ذمته يتصدق بها متى وجدها؛ لأن الوجوب قد تأكد عليه بآخر الوقت فلا يسقط بفقره بعد ذلك؛ كالمقيم إذا مضى عليه وقت الصلاة ولم يصل حتى سافر لا يسقط عنه شطر الصلاة؛ وكالمرأة إذا مضى عليها وقت الصلاة وهي طاهرة ثم حاضت لا يسقط عنها فرض الوقت حتى يجب عليها القضاء إذا طهرت من حيضها، كذا ههنا"

(كتاب التضحية، فصل في أنواع كيفية الوجوب، ج: 5، ص: 61، ط: دارالکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو) (تركت التضحية ومضت أيامها) (تصدق بها حية ناذر) فاعل تصدق (لمعينة) ولو فقيرا۔

 (قوله: ولو تركت التضحية إلخ) شروع في بيان قضاء الأضحية إذا فاتت عن وقتها فإنها مضمونة بالقضاء في الجملة، كما في البدائع.

(قوله: ومضت أيامها إلخ) قيد به لما في النهاية: إذا وجبت بإيجابه صريحا أو بالشراء لها، فإن تصدق بعينها في أيامها فعليه مثلها مكانها، لأن الواجب عليه الإراقة وإنما ينتقل إلى الصدقة إذا وقع اليأس عن التضحية بمضي أيامها، وإن لم يشتر مثلها حتى مضت أيامها تصدق بقيمتها، لأن الإراقة إنما عرفت قربة في زمان مخصوص ولا تجزيه الصدقة الأولى عما يلزمه بعد لأنها قبل سبب الوجوب اهـ (قوله: تصدق بها حية) لوقوع اليأس عن التقرب بالإراقة، وإن تصدق بقيمتها أجزأه أيضا لأن الواجب هنا التصدق بعينها وهذا مثله فيما هو المقصود اهـ ذخيرة."

(كتاب الأضحية، ج: 6، ص: 320، ط: ایچ ایم سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102234

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں