بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1447ھ 07 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کے ساتھ اگر ایک بکری مفت مل جائے تو کیا مفت ملی بکری کی قربانی بھی لازم ہے؟


سوال

اگر کسی کو قربانی کی جانور کے ساتھ ایک بکری مفت میں مل جائے تو کیا اس کو بھی قربانی کرنا لازم ہے؟اور کیا وہ خود پال سکتا ہے ؟

اگر سال بھر پالا اور پھر بیچ دیا تو کیا پورا روپیہ صدقہ کرنا واجب ہے یا اس پر جتنا انویسٹ (خرچ )ہوا ہو  وہ رکھ سکتا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  قربانی کے جانور کے ساتھ مفت ملی ہوئی بکری کی قربانی کرنا واجب نہیں ہے، البتہ اگر نفل کے طور پر اس بکری کی قربانی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔مذکورہ بکری جو بطور ہدیہ ملی ہے خریدار اسے خود پال سکتاہے اور فروخت کرنے پر کل رقم استعمال میں لاسکتا ہے ۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو ‌ملك ‌إنسان ‌شاة فنوى أن يضحي بها، أو اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا تجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا."

(كتاب الأضحية، الباب الأول، ج:5، ص:291، ط: رشيدية)

حاشیۃ الشلپی میں ہے:

"فإن ‌وهب ‌له أو تصدق عليه ‌فنوى ‌بقلبه لا تصير أضحية بالإجماع؛ لأن العقد لا يصلح للتعين في الإيجاب."

(كتاب الأضحية، ج:6، ص:5، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

”سوال: جس پر قربانی واجب نہیں غربت کی وجہ سے، وہ اگر قربانی کے لیے جانور خریدلیتا ہے تو اس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے، اسی طرح اگر بغیر خریدے اس کو کسی نے ہدیہ یا صدقہ کے طور پر جانور دے دیا اور اس نے دل میں اس کی قربانی کی نیت کرلی تو کیا پھر بھی اس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے؟

جواب: اس طرح اس پر قربانی واجب نہیں ہوتی۔ “

(کتاب الأضحیۃ، باب من یجب علیہ الأضحیۃ ومن لایجب، ج:17، ص:318، ط: ادارہ فاروقیہ)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144612100664

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں