بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کتنی کرنا افضل ہے ، ایک یا متعدد؟


سوال

پہلی قربانی ایک کرنی چاہیے یا دو؟

جواب

صاحب استطاعت شخص پر عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرنا واجب ہوتا ہے، جس کی ادائیگی کے لیے ایک قربانی کافی ہوتی ہے۔

البتہ صاحب استطاعت شخص ایک سے زائد قربانیاں کرنا چاہے، تو کر سکتا ہے۔ پہلی قربانی سے واجب ادا ہوگا، اور زائد قربانیاں نفلی شمار ہوگی، اور قربانی کرنے والا ثواب کا حقدار ہوگا؛کیونکہ  قربانی کے دنوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عبادت قربانی کے جانوروں کا خون بہانا ہے؛ جتنے زیادہ جانوروں کی قربانی ہوگی، اتنا اللہ کا قرب نصیب ہوگا اور یہی زیادہ افضل ہے۔

سنن ابن ماجه  میں ہے:

"حدثنا عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي قال: حدثنا عبد الله بن نافع قال: حدثني أبو المثنى، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما عمل ابن آدم يوم النحر عملا أحب إلى الله عز وجل، من هراقة دم، وإنه ليأتي يوم القيامة، بقرونها، وأظلافها، وأشعارها، وإن الدم، ليقع من الله عز وجل، بمكان قبل أن يقع على الأرض، فطيبوا بها نفسا"

ترجمہ: "ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ، کھر اور بالوں سمیت (جوں کا توں) آئے گا، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کر لیتا ہے، پس اپنے دل کو قربانی سے خوش کرو"

(كتاب الأضاحي،باب ثواب الأضحية، ج:2، ص:1045، ط:دار إحياء الكتب العربية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وقد صح أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «كان يضحي كل سنة بشاتين وضحى عام الحديبية بمائة بدنة» كذا في المحيط.

اشترى الأضحية بثلاثين درهما الشاتان أفضل من واحدة بخلاف ما إذا اشترى بعشرين حيث كانت الواحدة أفضل؛ لأنه يوجد بثلاثين درهما شاتان على ما يجب من إكمال الأضحية في السن والكبر، ولا يوجد بعشرين حتى لو وجد كان شراء الشاتين أفضل، ولو لم يوجد بثلاثين كان شراء الواحدة أفضل، كذا في الفتاوى الكبرى."

(كتاب الأضحية،الباب الثاني في وجوب الأضحية،ج:5،ص: 295، ط: دار الفكر بيروت )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102252

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں