
میرے کچھ جاننے والوں نے بیرون ملک، جیسے سعودی عرب اور کینیڈا وغیرہ سے، گائے میں حصے کے لیے پیسے بھیجے ہیں، چوں کہ ہماری عید اور وہاں کی عید بعض اوقات ایک ہی دن ہوتی ہے، لیکن وقت میں فرق ہوتا ہے، مثلا پاکستان میں فجر کے وقت وہاں ابھی رات ہوتی ہے اور ممکن ہے ان کی نمازعید نہ ہوئی ہو۔
اس صورت میں کیا ہم پاکستان میں ان کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں یا ان کی نماز عید اور وقت قربانی شروع ہونے کا انتظار کرنا ضروری ہوگا؟
اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو اس کا درست طریقۂ کار کیا ہونا چاہیے؟ براہ کرم رہنمائی فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں بیرونِ ملک رہنے والے لوگ اگر پاکستان میں اپنی قربانی کرنا چاہتے ہیں تو بیرونِ ملک قربانی کا وقت ہونے کے بعد ان پر قربانی واجب ہوگی،اور اس کے بعد قربانی کرنے سے قربانی ادا ہوگی، اس سے پہلے ادا نہیں ہوگی،اس لیے بیرونِ ملک صبح صادق ہونے کے بعد دوسرے ملک میں ان کی قربانی کرنا جائز ہوگا، اس سے پہلے قربانی کرنے سے قربانی نہیں ہوگی، مثلا پاکستان میں عید کی نماز ہوجانے کے چھ گھنٹے بعد کسی ملک میں صبح صادق ہوتی ہےتو پاکستان میں چھ گھنٹے انتظارکرنے کے بعد اس ملک والوں کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہوگا، اس سے پہلے ان کی طرف سے قربانی کرنے سےان کی واجب قربانی نہیں ہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
" وهكذا روى الحسن عن أبي يوسف رحمه الله: يعتبر المكان الذي يكون فيه الذبح ولا يعتبر المكان الذي يكون فيه المذبوح عنه، وإنما كان كذلك؛ لأن الذبح هو القربة فيعتبر مكان فعلها لا مكان المفعول عنه. وإن كان الرجل في مصر وأهله في مصر آخر فكتب إليهم أن يضحوا عنه روي عن أبي يوسف أنه اعتبر مكان الذبيحة فقال: ينبغي لهم أن لا يضحوا عنه حتى يصلي الإمام الذي فيه أهله، وإن ضحوا عنه قبل أن يصلي لم يجزه، وهو قول محمد - عليه الرحمة - وقال الحسن بن زياد: انتظرت الصلاتين جميعا وإن شكوا في وقت صلاة المصر الآخر انتظرت به الزوال فعنده لا يذبحون عنه حتى يصلوا في المصرين جميعا، وإن وقع لهم الشك في وقت صلاة المصر الآخر لم يذبحوا حتى تزول الشمس فإذا زالت ذبحوا عنه.(وجه) قول الحسن أن فيما قلنا اعتبار الحالين حال الذبح وحال المذبوح عنه فكان أولى ولأبي يوسف ومحمد رحمهما الله أن القربة في الذبح، والقربات المؤقتة يعتبر وقتها في حق فاعلها لا في حق المفعول عنه."
(كتاب التضحية، فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية، ج: 5، ص: 74، ط: دارالکتب العلمیة)
وفيه أيضا:
"(منها) أنها تجب في وقتها وجوبا موسعا؛ ومعناه أنها تجب في جملة الوقت غير عين كوجوب الصلاة في وقتها ففي أي وقت ضحى من عليه الواجب كان مؤديا للواجب سواء كان في أول الوقت أو وسطه أو آخره كالصلاة، والأصل أن ما وجب في جزء من الوقت غير عين يتعين الجزء الذي أدى فيه الوجوب أو آخر الوقت كما في الصلاة وهو الصحيح من الأقاويل على ما عرف في أصول الفقه۔۔ ولو كان أهلا في أوله ثم لم يبق أهلا في آخره بأن ارتد أو أعسر أو سافر في آخره لا يجب عليه."
(كتاب التضحية، فصل في أنواع كيفية الوجوب، ج: 5، ص: 74، ط: دارالکتب العلمیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"والمعتبر مكان الأضحية لا مكان من عليه، فحيلة مصري أراد التعجيل أن يخرجها لخارج المصر، فيضحي بها إذا طلع الفجر مجتبى.قوله والمعتبر مكان الأضحية إلخ) فلو كانت في السواد والمضحي في المصر جازت قبل الصلاة، وفي العكس لم تجز قهستاني (قوله أن يخرجها) أي يأمربإخراجها."
(كتاب الأضحية، ج: 6، ص: 318، ط: دارالفكر بيروت)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100362
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن