بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کی عمر


سوال

قربانی کا جو جانور ہے، اس  کی عمر کیا ہو نی چاہیے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ میں قربانی کے جانور  کی قربانی درست ہونے کے لیے ان جانوروں کی کم سے کم عمر مقرر ہے، یعنی بکرا ، بکری  وغیرہ  کی عمر ایک  سال، گائے ، بھینس وغیرہ کی دو سال، اور اونٹ ، اونٹنی کی عمر پانچ سال پوری  ہونا ضروری ہے، دنبہ اور بھیڑ وغیرہ اگر چھ  ماہ  کا ہوجائے، لیکن وہ صحت اور فربہ ہونے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی درست ہوگی۔ 

 اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ ان جانوروں کی اتنی عمریں ہوگئیں ہیں (مثلاً: جانور کو اپنے سامنے پلتا بڑھتادیکھا ہو اور ان کی عمر بھی معلوم ہو) تو ان کی قربانی درست ہے، پکے دانت نکلنا ضروری نہیں، بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے۔  تاہم آج کل چوں کہ فساد کا غلبہ ہے؛ اس لیے صرف بیوپاروی کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اس لیے  احتیاطاً دانت کو عمر معلوم کرنے کے لیے علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، دانتوں کی علامت ایسی ہے کہ اس میں کم عمر کا جانور نہیں آسکتا ، ہاں زیادہ عمر کا آنا ممکن ہے، یعنی تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ مطلوبہ عمر سے پہلے جانور کے دو دانت نہیں  نکلتے۔

لہذا   اگر جانور  کی عمر یقینی طور پر پوری ہوچکی ہوتو دانت آئیں یا نہ آئیں قربانی درست ہوجائے گی، اور  یہ معلوم نہیں ہے تو پھر  احتیاطاً دانت آنے پر ہی قربانی درست ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔

الفتاوى الهندية (5/ 297):

"(وأما سنه) فلايجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس وإلا الجذع من الضأن خاصةً إذا كان عظيماً، وأما معاني هذه الأسماء فقد ذكر القدوري: أن الفقهاء قالوا: الجذع من الغنم ابن ستة أشهر، والثني ابن سنة۔ والجذع من البقر ابن سنة، والثني منه ابن سنتين. والجذع من الإبل ابن أربع سنين، والثني ابن خمس. وتقدير هذه الأسنان بما قلنا يمنع النقصان، ولايمنع الزيادة، حتى لو ضحى بأقل من ذلك شيئاً لايجوز، ولو ضحى بأكثر من ذلك شيئاً يجوز ويكون أفضل".  

(کفایت المفتی ، 8/217، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201158

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں