بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور میں اگر لڑکے کا عقیقہ کیا جاۓ تو کتنے حصے رکھنے چاہیے؟


سوال

اگر قربانی کے جانور میں لڑکے کا عقیقہ کیا جائے تو کتنے حصے لینےہوں گے؟

جواب

صورت مسئولہ میں دو حصے رکھنا مستحب ہے، اگر ایک بھی رکھ لے تب بھی عقیقہ کی سنت ادا ہوجائےگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا، والله تعالى أعلم."

( کتاب الأضحية، ج: 6، ص: 336، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:

"وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل ؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد."

(کتاب الأضحیة، ج: 6، ص: 326، ط:  سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100389

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں