
جس شخص پر قربانی واجب ہو، اگر وہ قربانی کا جانور خرید لے اور وہ جانور گم ہو جائے، یا چوری ہو جائے، یا مر جائے، تو اس پر لازم ہے کہ اس کے بدلے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے،کیونکہ صاحبِ نصاب پر قربانی اس کے ذمہ میں واجب ہوتی ہے، کسی مخصوص جانور پر نہیں۔ لہٰذا ایک جانور کے گم یا ضائع ہونے سے اس کا ذمہ فارغ نہیں ہوتا، جب تک کہ وہ قربانی ادا نہ کر لے۔
جس شخص پر قربانی واجب نہ ہو، اگر وہ قربانی کے لیے جانور خرید لے تو اس جانور کی قربانی اس پر لازم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ جانور گم ہو جائے یا مر جائے تو اس کی وجہ سے اس پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا واجب نہیں، کیونکہ غریب آدمی (غیر صاحبِ نصاب شخص) پر اصل میں قربانی واجب نہیں ہوتی، البتہ جب وہ قربانی کے لیے کوئی جانور متعین کر لے تو صرف اس متعین جانور کی قربانی اس کے ذمہ واجب ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ جانور ہی گم ہو جائے یا مر جائے تو وہ وجوب بھی ساقط ہو جاتا ہے، اور اس پر اس کے بدلے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم نہیں رہتا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وعلى هذا يخرج ما إذا اشترى شاة للأضحية وهو موسر، ثم إنها ماتت أو سرقت أو ضلت في أيام النحر أنه يجب عليه أن يضحي بشاة أخرى؛ لأن الوجوب في جملة الوقت والمشترى لم يتعين للوجوب والوقت باق - وهو من أهل الوجوب - فيجب...........
ولو اشترى الموسر شاة للأضحية فضلت فاشترى شاة أخرى ليضحي بها ثم وجد الأولى في الوقت فالأفضل أن يضحي بهما؛ فإن ضحى بالأولى أجزأه ولا تلزمه التضحية بالأخرى ولا شيء عليه غير ذلك؛ سواء كانت قيمة الأولى أكثر من الثانية أو أقل، والأصل فيه ما روي عن سيدتنا عائشة رضي الله عنها أنها ساقت هديا فضاع فاشترت مكانه آخر ثم وجدت الأول فنحرتهما ثم قالت: " الأول كان يجزئ عني " فثبت الجواز بقولها والفضيلة بفعلها رضي الله عنها.
ولأن الواجب في ذمته ليس إلا التضحية بشاة واحدة وقد ضحى، وإن ضحى بالثانية أجزأه وسقطت عنه الأضحية وليس عليه أن يضحي بالأولى؛ لأن التضحية بها لم تجب بالشراء بل كانت الأضحية واجبة في ذمته بمطلق الشاة فإذا ضحى بالثانية فقد أدى الواجب بها، بخلاف المتنفل بالأضحية إذا ضحى بالثانية أنه يلزمه التضحية بالأولى أيضا؛ لأنه لما اشتراها للأضحية فقد وجب عليه التضحية بالأولى أيضا بعينها فلا يسقط بالثانية بخلاف الموسر فإنه لا يجب عليه التضحية بالشاة المشتراة بعينها وإنما الواجب في ذمته - وقد أداه بالثانية - فلا تجب عليه التضحية بالأولى......
ولو اشترى شاة للأضحية وهو معسر أو كان موسرا فانتقص نصابه بشراء الشاة ثم ضلت فلا شيء عليه ولا يجب عليه شيء آخر؛ أما الموسر فلفوات شرط الوجوب وقت الوجوب وأما المعسر فلهلاك محل إقامة الواجب فلا يلزمه شيء آخر."
(كتاب التضحية، فصل في أنواع كيفية الوجوب، ج: 5، ص: 66، ط: مطبعة الجمالية بمصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100158
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن