بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے گوشت کی تقسیم کا افضل طریقہ


سوال

 قربانی کا گوشت جو تین حصہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ایک حصہ اپنے گھر کے لئے اور دوسراحصہ رشتہ داروں کے لئے اور تیسرا حصہ محلہ میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ جو تیسر احصہ محلہ والوں کو تقسیم کیا جاتا ہے وہ ہر قربانی کرنے والا شخص اپنا تیسرے حصے کا گوشت ایک جگہ جمع کرتا ہے پھر وہی گوشت محلہ کے ہر گھر میں تقسیم کیا جاتا ہے چاہے وہ شخص قربانی کرنے والا ہو یا نہ ہو ۔ اب یہ گوشت قربانی کرنے والے شخص کو لینا کہاں تک صحیح ہے ؟ حوالہ کے ساتھ جواب دیں تو مہر بانی ہوگی۔

جواب

واضح رہے کہ قربانی کا گوشت قربانی کرنے والے کے لیے خود کھانا یا کسی فقیر کو کھلانا یا کسی غنی کو کھلانا سب امور شرعا بلاکراہت جائز ہیں  کیونکہ قربانی والا خود اور دیگر فقراء اور اغنیاء سب عید کے ایام میں  اللہ کے مہمان ہیں ۔ہاں البتہ اگر قربانی کرنے والا شخص خود صاحب وسعت ہو تو اس کے لیے  یہ بات مستحب ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصہ کیے جائیں ، ایک حصہ فقراء پر صدقہ کیا جائے، ایک حصہ رشتہ دار اور دوست احباب  کو ہدیہ کیا جائے اور ایک حصہ اپنے استعمال کے لیے رکھا جائے۔

لہذا صورت مسئولہ میں ایک حصہ اپنے لیے رکھنا، ایک حصہ رشتہ داروں میں تقسیم کرنا اور ایک حصہ محلہ والوں (محلہ کے فقراء اور اغنیاء سب ) میں تقسیم کرنا شرعا شرعا جائز ہے اس میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ہے،  البتہ افضل یہ ہے کہ ایک حصہ جو رشتہ داروں میں تقسیم کیا جارہا ہے محلہ کے اغنیاء کو اسی حصہ سے دیا جائے اور ایک حصہ جو محلہ میں تقسیم کیا جارہا ہے وہ محلہ کے صرف فقراء میں صدقہ کیا جائے ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"والأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقاربه وأصدقائه ويدخر الثلث لقوله تعالى {فكلوا منها وأطعموا القانع والمعتر} [الحج: 36] وقوله - عز شأنه - {فكلوا منها وأطعموا البائس الفقير} [الحج: 28] وقول النبي - عليه الصلاة والسلام - «كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فكلوا منها وادخروا» فثبت بمجموع الكتاب العزيز والسنة أن المستحب ما قلنا ولأنه يوم ضيافة الله - عز وجل - بلحوم القرابين فيندب إشراك الكل فيها ويطعم الفقير والغني جميعا لكون الكل أضياف الله تعالى - عز شأنه - في هذه الأيام وله أن يهبه منهما جميعا، ولو تصدق بالكل جاز ولو حبس الكل لنفسه جاز؛ لأن القربة في الإراقة.

(وأما) التصدق باللحم فتطوع وله أن يدخر الكل لنفسه فوق ثلاثة أيام؛ لأن النهي عن ذلك كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ بما روي عن النبي - عليه الصلاة والسلام - أنه قال «إني كنت نهيتكم عن إمساك لحوم الأضاحي فوق ثلاثة أيام ألا فأمسكوا ما بدا لكم» وروي أنه - عليه الصلاة والسلام - قال «إنما نهيتكم لأجل الرأفة دون حضرة الأضحى» ألا إن إطعامها والتصدق أفضل إلا أن يكون الرجل ذا عيال وغير موسع الحال فإن الأفضل له حينئذ أن يدعه لعياله ويوسع به عليهم؛ لأن حاجته وحاجة عياله مقدمة على حاجة غيره قال النبي - عليه الصلاة والسلام - «ابدأ بنفسك ثم بغيرك."

(کتاب الاضحیہ، فصل فی بیان ما یستحب قبل التضحیۃ و بعدھا و ما یکرہ ، ج نمبر:۵ ص نمبر:۸۱،ط:دار الکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411101701

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں