
اس باب کی دسویں حدیث وہ ہے جس میں مروی ہے کہ: ”اپنی قربانیوں کے جانوروں کو خوب کھلا پلا کر فربہ کرو ؛ کیوں کہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی“۔ بعض روایات میں ان قربانیوں کو جنت کی سواریاں بھی بیان کیا گیا ہے۔
عام طور پر بیان کی جانے والی روایات کے الفاظ اس طرح ہیں: "استفرهوا ضحاياكم؛ فإنها مطاياكم على الصراط" اس حدیث کو ضیاء مقدسی رحمہ اللہ نے ”منتقی من مسموعاتہ بمرو“ میں، اور دیلمی رحمہ اللہ نے ”مسند الفردوس“ میں بطریق ابن المبارک"عن یحییٰ بن عبیداللہ عن أبیه قال سمعت أبا هریرۃ فذکرہ مرفوعا به" روایت کیا ہے۔
لیکن اس سند کا راوی یحییٰ بن عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب المدنی التیمی بقول امام نسائی رحمہ اللہ و دارقطنی رحمہ اللہ”ضعیف“ ہے،ابن حبان فرماتے ہیں:”اپنے والد سے بے اصل چیزوں کی روایت کرتا ہے،اس کا والد ثقہ ہے، لیکن یہ ساقط الاحتجاج ہے“۔یحیی قطان رحمہ اللہ نے اسے ”ثقہ“ بتایا ہے، شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”میں نے اس کی احادیث کو ترک کر دیا ہے“۔ ابن معین رحمہ اللہ کا قول ہے: ”یہ کچھ بھی نہیں ہے“، ابن مثنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : ”اس سے یحییٰ القطان رحمہ اللہ نے روایت کی تھی، پھر اسے ترک کر دیا تھا“، امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی احادیث مناکیر ہوتی ہیں“، ایک مرتبہ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا :”ثقہ نہیں ہے“ ،ابن عیینہ رحمہ اللہ کا قول ہے : ”ضعیف ہے“، علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: طبقہ ششم کا متروک راوی ہے“، امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کو ”فاحش بتایا ہے، اور حدیث گھڑنے کی وجہ سے متہم قرار دیا ہے“، ابو حاتم رحمہ اللہ کا قول ہے :”بہت زیادہ ضعیف الحدیث و منکر الحدیث ہے“، امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اسے ”متروک الحدیث“ قرار دیا ہے۔
اس مجروح راوی یحییٰ کا والد عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب المدنی بھی عند المحدثین ”مجہول“ ہے، اگرچہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اسے مقبول“ اور علامہ عجلی رحمہ اللہ و ابن حبان رحمہ اللہ نے ”ثقہ“ بتایا ہے، مگر عجلی رحمہ اللہ و ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق عند المحققین بسبب تساہل مقبول و مؤثر نہیں ہوا کرتی۔
عبیداللہ بن عبداللہ کے متعلق امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، ہیثمی رحمہ اللہ، اور جوزجانی رحمہ اللہ متفقہ طور پر فرماتے ہیں: "لا یعرف"، اس حدیث کے متعلق امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کی تخریج صاحب مسند الفردوس نے یحییٰ بن عبیداللہ بن موہب کے طریق سے کی ہے، اور یحییٰ بہت زیادہ ضعیف ہے، علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کو دیلمی نے ابن المبارک کے طریق سے "یحییٰ بن عبیداللہ عن أبيه عن أبي هريرۃ مرفوعا مسندا" روایت کیا ہے، اور یحییٰ بہت زیادہ ضعیف ہے۔
پھر حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ کا قول نقل فرماتے ہیں ،جو ذرا آگے پیش کیا جائے گا، علامہ شیبانی اثری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مختلف الفاظ کے ساتھ متعدد طرق سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے۔ حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ کا قول ہے: ”یہ حدیث غیر معروف ہے اور ہمارے علم کے مطابق اس بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے“۔علامہ عجلونی جراحی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: دیلمی رحمہ اللہ نے اس کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ ضعیف سند کے ساتھ مرفوعا روایت کیا ہے“۔ علامہ محمد درویش حوت البیروتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ حدیث غیر ثابت ہے جیسا کہ ابن الصلاح رحمہ اللہ وغیرہ نے بیان کیا ہے“۔ اسی طرح "إنها مطاياكم في الجنه" والی حدیث بھی غیر ثابت ہے، اور فضیلتِ و صفِ اضحیہ کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے، علامہ سمہودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن الصلاح رحمہ اللہ نے اس کو بے اصل بتایا ہے“۔ بعض دوسرے محققین فرماتے ہیں: ”ضحایا (کی فضیلت) کے متعلق کوئی صحیح چیز وارد نہیں ہے“۔علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اسے ”الدرر المنتشرۃ“ اور ”الجامع الصغیر“میں بحوالہ دیلمی رحمہ اللہ وارد کیا ہے، اور فرماتے ہیں کہ ”یحییٰ ضعیف ہے“ ۔مگر اس کے باوجود آپ رحمہ اللہ ہی نے اس حدیث کو اپنی دوسری کتاب ”الجامع الکبیر“ میں بحوالہ مسند دیلمی رحمہ اللہ ”وامالی للقاضی عبدالجبار عن ابی ہریرۃ رحمہ اللہ“ توقیراً وارد کیا ہے۔
علامہ متقی رحمہ اللہ نے ”کنز العمال“ میں اور مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے ”حیوۃ المسلمین“ میں اس کو بطورِ دلیل ذکر کیا ہے۔
واضح رہے کہ علامہ مناوی رحمہ اللہ نے ”فیض القدیر شرح الجامع الصغیر“ میں اس کی تضعیف فرمائی ہے، اور شیخ محمد ناصر الدین الالبانیؒ"ضعيف الجامع الصغير"اور"سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة"میں اس کو بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے۔
اسی مضمون کی ایک اور حدیث ان الفاظ کے ساتھ بھی بیان کی جاتی ہے "عظموا ضحاياكم؛ فإنها على الصراط مطاياكم "مگر اس کے متعلق علامہ سخاوی رحمہ اللہ اور اسماعیل عجلونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”امام الحرمین الجوینی رحمہ اللہ کی النہایہ میں، غزالی رحمہ اللہ کی الوسیط، اور الوجیز میں، نیز رافعی رحمہ اللہ کی العزیز (جو شوافع کے نزدیک شرح الکبیر ہے) میں، یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ وارد ہے: "عظموا ضحاياكم؛ فإنها على الصراط مطاياكم" امام الحرمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کرنے والوں کے لیے قربانی کے جانور خود سواریاں بن جائیں گے“۔
بعض دوسرے لوگوں کا قول ہے کہ ان قربانیوں کی برکت سے پل صراط پر سے بہ آسانی گزرنا ممکن ہو گا ،گویا کہ وہ سواریاں بن جائیں گی، لیکن ابن الصلاح رحمہ اللہ کا قول ہے : ”یہ حدیث غیر معروف اور ہمارے علم کے مطابق غیر ثابت ہے“۔شیخ محمد ناصر الدین الالبانیؒ "سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة" میں فرماتے ہیں: ”یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بے اصل“ ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم نے ”حیوۃ المسلمین“ میں اس حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے تقریبا وہی معانی بیان کیے ہیں، جو اوپر ذکر ہو چکے ہیں۔
اور ابن ملقن رحمہ اللہ کا قول ہے :میں کہتا ہوں کہ صاحب الفردوس نے اس کو "غطموا" کے بجائے "استفرھوا" کے ساتھ روایت کیا ہے، لہذا مروی ہے: "ضحوا بالثمينة القوية السمينة" (یعنی قیمتی، طاقتور اور فربہ جانوروں کی قربانیاں کیا کرو)، لیکن شیخ محمد ناصر الدین الالبانیؒ فرماتے ہیں : ”ابن ملقن رحمہ اللہ کی یہ حدیث سندا بہت زیادہ ضعیف ہے“ افسوس کہ مشہور حنفی محقق ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق شرح مشکوۃ میں دیگر فضائل قربانی کے ساتھ قربانیوں کے پل صراط پر سواریاں ہونے والی مذکورہ بالا روایت پر بھی اعتماد کیا ہے، چناں چہ تحریر فرماتے ہیں:
"أفضل العبادات يوم العيد إراقة دم القربات وإنه ياتي يوم القيمة كما كان في الدنيا من غير نقصان شيئ ليكون بكل عضو منه أجر وتصير مركبه علي الصراط وكل يوم مختص بعبادة وخص يوم النحر بعبادة فعلها إبراهيم عليه الصلوة والسلام من التضحية والتكبير ولو كان شيئ أفضل من ذبح الغنم في فداء الإنسان لما فدي إسماعيل عليه السلام بذبح الغنم."
یعنی عید کے روز تمام عبادات سے افضل (عبادت) خون بہانا ہے اور وہ (قربانی) بغیر کسی نقصان کے قیامت کے دن لائی جائے گی جس طرح کہ وہ دنیا میں تھی اور اس کے ہر عضو کے بدلہ اجر دیا جائے گا اور پل صراط پر اس کے لیے سواری کا کام دے گی، ہر دن عبادت کے لئے مخصوص ہوتا ہے، قربانی کا دن بھی عبادت کے لئے مخصوص ہے اس دن کو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے قربانی اور تکبیر کے ساتھ عبادت میں گزارا، اگر (اس دن) بکری کی قربانی سے افضل کوئی چیز ہوتی تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلہ میں بکری ذبح نہ کی جاتی۔
واضح رہے کہ بعض روایات میں اضافہ کرنے والوں کے لیے ان قربانیوں کا پل صراط کے بجائے جنت میں سواریاں ہونا بھی مذکور ہے "فإنها مطاياكم في الجنة" جیسا کہ اوپر ضمناً بیان کیا جا چکا ہے، مگر علامہ سخاوی و شیبانی وحوت بیروتی وغیرہم رحمہم اللہ نے اس کو بھی ”غیر معروف و غیر ثابت“ بتایا ہے۔
کیا یہ حدیث موضوع ہے؟ اس کا مدلل جواب مطلوب ہے، اس روایت کو بیان کرنا کیسا ہے جب کہ یہ موضوع روایت ہے ؟
سوال میں جس روایت کی سند پر سائل نے طویل کلام نقل کیا ہے ،یہ روایت "الفردوس بمأثور الخطاب"، "التدوين في أخبار قزوين"، "شرح مشكل الوسيط لابن الصلاح"، "المنتقى من مسموعات مرو - الضياء المقدسي"، "التلخيص الحبير"، "المقاصد الحسنة"، "كشف الخفاء" اور ”بدائع الصنائع“ وغیرہ کتابوں میں مذکور ہے، اور بلاشبہ مذکورہ روایت کے بارے میں علماء نے کلام کیا ہے، اور مذکورہ روایت کو ضعیف یا شدید ضعیف قرار دیا ہے، اسی طرح اس کے راوی ”یحیی بن عبید“ کے بارے میں بھی محدثین نے شدید کلام کیا ہے،لیکن موضوع نہیں کہا ہے، اور ابن الصلاح رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت کے بارے میں جو یہ فرمایا ہے کہ: "حديث غير معروف، ولا ثابت فيما علمناه" ”یعنی یہ حدیث غیر معروف ہے، اور ہمارے علم کے مطابق ثابت نہیں ہے“، اس عبارت سے مذکورہ روایت کا موضوع ثابت ہونا کسی محدث کاقول نہیں ہے، بلکہ ابن الصلاح رحمہ اللہ کے مذکورہ قول سے واقفیت کے باوجود اسے ضعیف یا شدید ضعیف کہاہے،اور فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث بیان کرنا منع نہیں ہے، البتہ آخر میں بتادے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ ذیل میں مذکورہ روایت بالا ذکر شدہ کتابوں کے حوالہ سےدرج کی جاتی ہے۔
الفردوس بمأثور الخطابمیں ہے:
"أبو هريرة: استفرهوا ضحاياكم؛ فإنها مطاياكم على الصراط."
(باب الألف، 1/ 85، ط: دار الكتب العلمية)
التدوين في أخبار قزوين میں ہے:
"وفي أمالي القاضي عبد الجبار بن أحمد ثنا أبو محمد عبد الله المرزبان بقزوين ثنا أحمد بن الخضر المرزي ثنا عبد الحميد ابن إبراهيم البوشنجي ثنا محمد بن بكر ثنا عبد الله بن المبارك ثنا يحيى بن عبد الله عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم "استفرهوا ضحاياكم؛ فإنها مطاياكم على الصراط."
(باب العين، الإسم الخامس والعشرون، 3/ 219، ط: دار الكتب العلمية)
شرح مشكل الوسيط لابن الصلاحمیں ہے:
"حديث: عظموا ضحاياكم، فإنها على الصراط مطاياكم. حديث غير معروف، ولا ثابت فيما علمناه، والله أعلم."
(من كتاب الضحايا، 4/ 199، ط: دار كنوز، السعودية)
المنتقى من مسموعات مرو الضياء المقدسيمیں ہے:
"وقلت لشيخنا أبي القاسم: أخبركم أبو الفتح سالم بن عبد الله بن عمر القرشي قراءةً عليه وأنت تسمع، أنبأ أبو عبد الله الحسين بن محمد بن الحسين الكتبي الحاكم، أنبأ الشيخ أبو أسامة بسطام بن شامة الشامي القدسي وكان إمام الجامع بهراة، ثنا أبو عبد الله بشر بن محمد المزني الحافظ إملاءً، ثنا محمد بن عبد الله المخلدي، ثنا عبد المجيد بن إبراهيم الغوسجي بمرو، ثنا محمد بن المكي، ثنا عبد الله بن المبارك، عن يحيى بن عبيد الله قال: سمعت أبي يقول: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: استفرهوا ضحاياكم؛ فإنها مطاياكم على الصراط."(ص: 106)
التلخيص الحبيرمیں ہے:
"حديث: عظموا ضحاياكم؛ فإنها على الصراط مطاياكم. لم أره، وسبقه إليه في الوسيط، وسبقهما في النهاية، وقال معناه: إنها تكون مراكب المضحين، وقيل: إنها تسهل الجواز على الصراط، قال ابن الصلاح: هذا الحديث غير معروف، ولا ثابت فيما علمناه. انتهى.
وقد أشار ابن العربي إليه في شرح الترمذي بقوله: ليس في فضل الأضحية حديث صحيح، ومنها قوله: إنها مطاياكم إلى الجنة، قلت: أخرجه صاحب مسند الفردوس من طريق ابن المبارك، عن يحيى بن عبيد الله بن موهب، عن أبيه، عن أبي هريرة رفعه: استفرهوا ضحاياكم؛ فإنها مطاياكم على الصراط. ويحيى ضعيف جدا."
(كتاب الضحايا، 4/ 251 ، ط: مؤسسة قرطبة، مصر)
المقاصد الحسنة میں ہے:
"حديث: استفرهوا ضحاياكم؛ فإنها مطاياكم على الصراط. أسنده الديلمي من طريق ابن المبارك عن يحيى بن عبيد الله عن أبيه عن أبي هريرة رفعه بهذا، ويحيى ضعيف جدا، ووقع في النهاية لإمام الحرمين. ثم في الوسيط ثم في العزيز: عظموا ضحاياكم؛ فإنها على الصراط مطاياكم. وقال الأول معناه: أنها تكون مراكب للمضحين، وقيل: إنها تسهل الجواز على الصراط، لكن قد قال ابن الصلاح: إن هذا الحديث غير معروف، ولا ثابت فيما علمناه. وقال ابن العربي في شرح الترمذي: ليس في فضل الأضحية حديث صحيح، ومنها قوله: إنها مطاياكم إلى الجنة."
(حرف الهمزة، ص: 114، ط: دار الكتاب العربي)
التيسير بشرح الجامع الصغير میں ہے:
"(استفرهوا) ندبا (ضحاياكم) أي استكرموها فضحوا بالكريمة الشابة الحسنة السير والمنظر السمينة الثمينة (فإنها مطاياكم على الصراط) أي فإن المضحي يركبها وتمر به على الصراط إلى الجنة، فإذا كانت موصوفة بما ذكر مرت على الصراط بخفة ونشاط وسرعة (فر عن أبي هريرة) وهو ضعيف اتفاقاً."
(حرف الهمزة، 1/ 148، ط: مكتبة الإمام الشافعي، الرياض)
كشف الخفاءمیں ہے:
"استفرهوا ضحاياكم فإنها مطاياكم على الصراط، رواه الديلمي بسند ضعيف جدا عن أبي هريرة رفعه."
(حرف الهمزة، 1/ 121، ط: مكتبة القدسي، القاهرة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(وأما) الذي يرجع إلى الأضحية فالمستحب أن يكون أسمنها وأحسنها وأعظمها لأنها مطية الآخرة قال عليه الصلاة والسلام "عظموا ضحاياكم فإنها على الصراط مطاياكم" ومهما كانت المطية أعظم وأسمن كانت على الجواز على الصراط أقدر، وأفضل الشاء أن يكون كبشا أملح أقرن موجوءا؛ لما روى جابر رضي الله عنه "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أملحين أقرنين موجوءين عظيمين سمينين" والأقرن: العظيم القرن، والأملح: الأبيض.
وروي عليه الصلاة والسلام أنه قال "دم العفراء يعدل عند الله مثل دم السوداوين وإن أحسن اللون عند الله البياض، والله خلق الجنة بيضاء" والموجوء: قيل هو مدقوق الخصيتين، وقيل: هو الخصي، كذا روي عن أبي حنيفة رحمه الله فإنه روي عنه أنه سئل عن التضحية بالخصي فقال: ما زاد في لحمه أنفع مما ذهب من خصيتيه."
(كتاب التضحية، فصل في بيان ما يستحب قبل التضحية وبعدها وما يكره، 5/ 80، ط: دار الكتب العلية)
حیوٰۃ المسلمین میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قربانیوں کو خوب قوی کیا کرو ،یعنی کھلا پلا کر کیوں کہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔ (کنز العمال، عن ابی ہریرہ)۔
ف: عالموں نے سواریاں ہونے کے دو مطلب بیان کیے ہیں: ایک یہ کہ قربانی کے جانور خود سواریاں ہو جاویں گی، اور اگر کئی جانور قربانی کیے ہوں یا تو سب کے بدلے میں ایک بہت اچھی سواری مل جاوے گی اور یا ایک ایک منزل میں ایک ایک جانور پر سواری کریں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ قربانیوں کی برکت سے پل صراط پر چلنا ایسا آسان ہو جائے گا جیسے گویا خود ان پر سوار ہوکر پار ہو گئے، اور کنز العمال میں ایک حدیث اس مضمون کی یہ ہے کہ سب سے افضل قربانی وہ ہے جو اعلیٰ درجہ کی ہو، اور خوب موٹی ہو (رحم ک عن رجل) اور ایک حدیث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پیاری قربانی وہ ہے جو اعلیٰ درجہ کی ہو، اور خوب موٹی ہو( ہق عن رجل والضعف غير مضر فى الفضائل لاسيما بعد انجباره بتعدد الطریق۔“
(ص: 269- 270، ط: المیزان)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102181
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن