بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا نصاب، مقروض پر قربانی کے وجوب کا حکم، ادھار پر خریدے گئے تجارتی مال کی واجب الاداء رقم قرض ہے


سوال

 قربانی کس پر واجب ہے؟ قرض کی صورت میں قربانی واجب ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص ادھار پر تجارت کے لیے مال لے تو کیا یہ قرض شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

1۔قربانی ہر ایسے مسلمان عاقل بالغ مقیم مسلمان  مرد اور عورت پر واجب ہے جو قربانی کے ایام میں صاحبِ نصاب ہو یعنی جس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں  بنیادی اخراجات اور قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو،  یا تجارت کا سامان، یا ضرورت  اور استعمال سےزائد اتنا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے  بعض یا سب کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  ہو۔ قربانی  واجب ہونے  کے لیے نصاب  کے  مال، رقم یا ضرورت و استعمال سے  زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ہے، ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے  جو مرد یا عورت صاحبِ نصاب بن جائے، اس پر قربانی  واجب ہے۔  جو شخص مذکورہ نصاب کا مالک نہ ہو تو وہ شرعی اعتبار سے فقیر ہے ، اس پر قربانی واجب نہیں ہے۔

2۔ اگر کسی شخص کے اوپر قرض ہو  اور اس کے پاس کچھ مال بھی ہو  تو  اگر یہ مال اتنا ہو کہ عید کے تیسرے دن تک  واجب الادا قرض منہا کرنے کے بعد بھی اس کے پاس بنیادی ضرورت سے زائد، نصاب کے بقدر یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال بچا رہتا ہے، تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی  ، لیکن اگر عید کے تیسرے دن تک  واجب الادا قرض منہا کرنے  کے بعد نصاب سے کم مال بچے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔

3۔اگر کوئی شخص ادھار پر تجارتی مال خریدے تو مال کی واجب الاداء رقم قرض تو شمار ہوگی،لیکن ایسا شخص نصاب کا حساب کرتے وقت اپنے تمام تجارتی مال کی موجودہ قیمت (مارکیٹ ویلیو) لگواکر اس میں سے تجارتی مال کی مد میں صرف اتنی واجب الاداء رقم منہا کرے گا جس کی ادائیگی کا وقت عید کے تیسرے دن تک آچکا ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وشرائطها: الإسلام والإقامة ‌واليسار ‌الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر.

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم، وصاحب الثياب الأربعة لو ساوى الرابع نصابا غني وثلاثة فلا، لأن أحدها للبذلة والآخر للمهنة والثالث للجمع والوفد والأعياد، والمرأة موسرة بالمعجل لو الزوج مليا وبالمؤجل لا، وبدار تسكنها مع الزوج إن قدر على الإسكان."

(کتاب الأضحیة، 312/6، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌وهي ‌واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب هكذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقة الفطر، 191/1، ط:دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب."

(کتاب الاضحیة، ج5،ص292، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611102436

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں