بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا جانور اگر گابھن نکل آۓ تو اس جانور کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں؟


سوال

قربانی کا جانور اگر گابھن  نکل آۓ تو اس جانور کی قربانی ہوسکتی ہے یا نہیں؟  

جواب

واضح رہے کہ  گابھن (یعنی جس جانور کے پیٹ میں بچہ ہو/حاملہ) جانور کی قربانی جائز ہے، البتہ عمداً ولادت کے قریب جانور کو ذبح کرنا مکروہ ہے، نیز ذبح کے بعد جو بچہ پیٹ سے نکلے، اس کو ذبح کرلیا جاۓ، تو اس  بچہ کا کھانا بھی  حلال ہے، لیکن اگر وہ  بچہ مردہ نکلے تو اس کا کھانا درست  نہیں ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر قربانی کا جانور  گابھن نکل آۓ تو اس کی قربانی کرنے سے واجب قربانی ادا ہوجاۓ گی۔  

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"شاة أو بقرة أشرفت على الولادة قالوا يكره ذبحها؛ لأن فيه تضييع الولد، وهذا قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - لأن عنده الجنين لا يتذكى بذكاة الأم، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الذبائح ،الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه،287/5، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102633

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں