
ایک جانور جو قربانی کی نیت سے لیا گیا اس نے بچہ جنا، بچہ جننے کے بعد جانور کا ایک تھن خراب ہو گیا، تو اب بچے کا کیا حکم ہے،اور جانور کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ اگر نفلی قربانی کے جانور میں عیب نکل آئے تو اس صورت میں اس عیب دار جانور کی بھی قربانی جائز ہے،اور اگر صاحبِ نصاب کے خریدے ہوئے جانور میں عیب نکل آئے تو اس صورت میں اس عیب دار جانور کی قربانی جائز نہیں ہو گی ،بلکہ صحیح سلامت ، بغیر عیب کے جانور خرید کر اس کی قر بانی کرنا لازم ہو گی۔نیز اگر واجب قربانی میں نیا جانور خرید کر اس کی قربانی کی گئی تو عیب دار جانور اور اس کے بچے کو ذبح کرنا لازم نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں قربانی کے جانور نے قربانی سے پہلے بچہ جنا تو اس جانور کو ذبح کرنا جائز ہے اور بچہ کو بھی اس کی ماں کے ساتھ ذبح کردیا جائے یا اس کو صدقہ کردیا جائے اور بچہ کو زندہ صدقہ کردینا زیادہ بہتر ہے، اگر بچہ کو ذبح کرلیا تو اس کا گوشت یا اس کی قیمت صدقہ کردی جائے، اور اگر قربانی کے ایام نکل گئے ہوں اور اس بچہ کو ذبح نہیں کیا ،تو اب اس کو زندہ صدقہ کردینا ضروری ہے۔
اگرسائل کی مراد بڑا جانور مثلاً گائے ،بھینس یا اونٹنی میں سے کوئی ایک ہے تو بڑے جانور کے چار تھنوں میں سے صرف ایک تھن خراب ہوگیا ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے، اور اگر چار میں سے دو تھن خراب ہوگئے ہوں تو اس جانور کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔
اور اگر سائل کی مراد چھوٹا جانور مثلاً بکری وغیرہ کی ہے،تو چھوٹے جانور کا اگر ایک تھن خراب ہو گیا ہو،تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔
تبیین الحقائق میں ہے :
"ولو اشتراها سليمة ثم تعيبت بعيب مانع من التضحية كان عليه أن يقيم غيرها مقامها إن كان غنيا، وإن كان فقيرا يجزئه ذلك؛ لأن الوجوب على الغني بالشرع ابتداء لا بالشراء فلم يتعين بالشراء.والفقير ليس عليه واجب شرعا فتعينت بشرائه بنية الأضحية، ولا يجب عليه ضمان نقصانها؛ لأنها غير مضمونة عليه فأشبهت نصاب الزكاة، وعن أبي سعيد أنه قال «اشتريت كبشا أضحي به فعدا الذئب فأخذ الألية قال فسألت النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال ضح به» رواه أحمد، ويحمل على أنه كان فقيرا".
(كتاب الأضحية، ما يضحى به، ج:6، ص:6، ط:المطبعة الكبرى الأميرية)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولدت الأضحية ولدا قبل الذبح يذبح الولد معها.
(قوله: قبل الذبح) فإن خرج من بطنها حيا فالعامة أنه يفعل به ما يفعل بالأم، فإن لم يذبحه حتى مضت أيام النحر يتصدق به حيًّا."
(کتاب الأضحية،ج:6،ص:322،ط:ایچ ایم سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
''ومقطوعة رءوس ضروعها لا تجوز، فإن ذهب من واحد أقل من النصف فعلى ما ذكرنا من الخلاف في العين والأذن، وفي الشاة والمعز إذا لم تكن لهما، قوله: والدجاجة إلخ هذه فائدة ذكرت تتميما للعبارة المتقولة عن الخانية، وإلا فلا يجوز ذلك في الأضحية كما لا يخفى۔
والشطور لا تجزئ وهي من الشاة ما انقطع اللبن عن إحدى ضرعيها، ومن الإبل والبقر ما انقطع اللبن من ضرعيهما؛ لأن لكل واحد منهما أربع أضرع، كذا في التتارخانية. ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع، ثم كل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال، وفي حق المعسر تجوز على كل حال، كذا في المحيط.''
(کتاب الأضحية ،الباب الخامس في بيان محل اقامة الواجب،ج:5،ص:299،ط:دار الفکر- بیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و الجذاء) مقطوعة رءوس ضرعها أو يابستها، ولا الجدعاء: مقطوعة الأنف، ولا المصرمة أطباؤها: وهي التي عولجت حتى انقطع لبنها.
(قوله: و لا المصرمة أطباؤها) مصرمة كمعظمة، من الصرم: وهو القطع، والأطباء بالطاء المهملة جمع طبي بالكسر والضم: حلمات الضرع التي من خف وظلف وحافر وسبع قاموس، وما رأيناه في عدة نسخ بالظاء المعجمة تحريف.
(قوله: وهي إلخ) فسرها الزيلعي بالتي لا تستطيع أن ترضع فصيلها، وهو تفسير بلازم المعنى؛ لما في القاموس: هي ناقة يقطع أطباؤها ليبس الإحليل فلا يخرج اللبن ليكون أقوى لها، وقد يكون من انقطاع اللبن بأن يصيب ضرعها شيء فيكون فينقطع لبنها اهـ. وفي الخلاصة: مقطوعة رءوس ضروعها لا تجوز، فإن ذهب من واحدة أقل من النصف فعلى ما ذكرنا من الخلاف في العين والأذن. وفي الشاة والمعز إذا لم يكن لهما إحدى حلمتيهما خلقة أو ذهبت بآفة وبقيت واحدة لم يجز، وفي الإبل والبقر إن ذهبت واحدة يجوز أو اثنتان لا اهـ وذكر فيها جواز التي لا ينزل لها لبن من غير علة. وفي التتارخانية والشطور لاتجزئ، وهي من الشاة ما قطع اللبن عن إحدى ضرعيها، ومن الإبل والبقر ما قطع من ضرعيها لأن لكل واحد منهما أربع أضرع."
(کتاب الأضحية،ج:6،ص:324،ط:ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100768
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن