
۱-ہماری کمپنی کی طرف سے قربانی کے لیے ورکرز کے نام شامل کیے جاتے ہیں، اب اگر کوئی ورکر اپنی قربانی کا حصہ کسی اور فرد (جس پر قربانی لازم ہو)کو منتقل کرنا چاہے، تو کیا یہ جائز ہوگا جب کہ متعلقہ فرد کو اس بات کی اطلاع دے دی جائے؟
۲- کیاقربانی کے وقت قصائی کے لیے ضروری ہے کہ وہ حصہ دار کا نام لے، یا فقط یہ کافی ہے کہ قربانی کرنے والا جانتا ہو کہ اس کی قربانی مخصوص جانور میں ہو رہی ہے؟ براہ کرم راہ نمائی فرمائیں!
۱- صورتِ مسئولہ میں مذکورہ قربانی کمپنی کی طرف سے کی جارہی ہے، لہذا جس ورکر کی طرف سے کی جارہی ہے، اسے یہ قربانی دوسرے ورکر کی طرف منتقل کرنے کا اختیار نہیں، تاہم یہ ورکر دوسرے کو قربانی کو گوشت دے سکتا ہے۔ البتہ اگر کمپنی پہلے ورکرکے بجائے اس دوسرے ورکر کی طرف سے قربانی کرنا چاہے توہ وہ کرسکتی ہے، تاہم جس ورکر کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے، پہلے سے اس کو اطلاع دینا ضروری ہے تاکہ اس کی طرف سے اجازت پائی جائے۔
۲- قربانی کے وقت قصائی کے لیے حصہ دار کا نام لینا ضروری نہیں ہے، صرف یہ معلوم ہونا کہ قربانی کرنے والے کا ایک متعین جانور میں حصہ ہے اور ذبح کرنے والا قربانی کرنے والے کی طرف سے اس کی نیت کرلے، یہ کافی ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) أنه تجزئ فيها النيابة فيجوز للإنسان أن يضحي بنفسه وبغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطر."
(کتاب التضحیة، فصل في أنواع وجوب الکیفیة، ج:5، ص:67، ط: دار الکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و لو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه و أولاده ليس هذا في ظاهر الرواية، وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغاراً جاز عنه وعنهم جميعاً في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كباراً إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، وإن فعل بغير أمرهم أو بغير أمر بعضهم لاتجوز عنه ولا عنهم في قولهم جميعاً؛ لأن نصيب من لم يأمر صار لحماً فصار الكل لحماً."
(كتاب الأضحیة، الباب السابع في التضحية عن الغير، وفي التضحية بشاة الغير عن نفسه، ج:5، ص:302، ط: دار الفكر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الذي يرجع إلى من عليه التضحية فمنها نية الأضحية لا تجزي الأضحية بدونها؛ لأن الذبح قد يكون للحم وقد يكون للقربة والفعل لا يقع قربة بدون النية؛ قال النبي عليه الصلاة والسلام «لا عمل لمن لا نية له» والمراد منه عمل هو قربة؛ وللقربة جهات من المتعة والقران والإحصار وجزاء الصيد وكفارة الحلق وغيره من المحظورات فلا تتعين الأضحية إلا بالنية؛ وقال النبي عليه الصلاة والسلام «إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى» ويكفيه أن ينوي بقلبه ولا يشترط أن يقول بلسانه ما نوى بقلبه كما في الصلاة؛ لأن النية عمل القلب، والذكر باللسان دليل عليها."
(کتاب التضحیة، ج:5، ص:71، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144611102127
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن