
آدمی کی ایک طرف ماں اوربہن ہواوردوسری طرف بیوی اوران میں آپس میں اختلاف ہو،ماں اوربہن بیوی کےمتعلق یہ کہیں کہ آپ کی بیوی ہماری بات نہیں مانتی اورہمارےاوپرجھوٹ بولتی ہے،جبکہ بیوی شوہرسےکہےکہ میں آپ کوکیسےیقین دلاؤں کہ میں ان کی بات بھی مانتی ہوں اورچھوٹ نہیں بول رہی ،اورعورتیں اپنی اپنی بات پراڑی رہیں، حتی کہ آدمی کےلئےفیصلہ کرنادشوارہواوروہ ان تینوں سےیہ کہےکہ قرآن پاک پرہاتھ رکھوکہ میں سچ بولتی ہوں توکیااس طرح کےمعاملات میں قرآن پاک کی قسم لیناجائزہے؟
اوراگرقسم لےلی ہوتوکیاکفارہ لازم ہوگایانہیں؟
واضح رہے کہ گھریلو معاملات میں ساس اور بہو دونوں کی جانب سے اخلاقِ کریمانہ کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے ۔ ساس کو چاہیے کہ بہو کو اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے اسی طرح حسنِ سلوک اور برتاؤ کرے، جیسے اپنی حقیقی بیٹی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اور بہو کو بھی چاہیے کہ ساس کی باتوں کو ماں کا درجہ دے اور برداشت کرے، خوش اخلاقی سے پیش آئے، اور بلاوجہ ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کا سبب نہ بنیں ۔
خاوند پر بھی لازم ہے کہ وہ والدہ اور بیوی کے درمیان پیدا ہونے والی نا چاقی کو خوش اسلوبی سے دور کرنے کی کوشش کرے اور دونوں کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرے۔
قسم اٹھوائے بغیر ہی ایسے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے، حتی الامکان ان معاملات میں قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھوانے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
لہذا اگر کسی مرد کی والدہ یا بہن یا بیوی میں سے جس نے قرآن ہاتھ میں اٹھاکر اپنے سچے ہونے پر قسم کھائی اور وہ اپنی بات میں سچی ہو تو اس صورت میں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔اور اگر جھوٹی قسم اٹھائی ، مثلاً کوئی بات کہہ کر بعد میں قسم اٹھاکر کہا میں نے یہ بات نہیں کہی تھی، یا کسی دوسری عورت کے بارے میں جھوٹی قسم کھائی تو اس صورت میں ایسی عورت سخت گناہ گار ہوگی، اس کو یمین غموس کہتے ہیں۔ اس صورت میں مالی کفارہ لازم نہیں ، تاہم جھوٹی قسم کھانے والی سخت گناہ گار ہے ، اس پر صدق دل سے توبہ واستغفار لازم ہے ۔
اور محض قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کے الفاظ کہے بغیر اپنے سچے ہونے کو بیان کرنا یہ قسم نہیں ہے ، البتہ اس صورت میں بھی جھوٹ بولنا جائز نہیں ہوگا۔
الدرالمختارمع ردالمحتارمیں ہے:
"(وهي) أي اليمين بالله ....(غموس): تغمسه في الإثم ثم النار، وهي كبيرة مطلقا.لكن إثم الكبائر متفاوت نهر
معلوم أن إثم الكبائر متفاوت. وكذا قال المقدسي: أي مفسدة أعظم من هتك حرمة اسم الله تعالى."
(كتاب الأيمان، ج: 3، ص: 705، ط: سعید)
وفیه أیضاً:
"(لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولايخفى أنّ الحلف بالقرآن الآن متعارف؛ فيكون يمينًا."
(كتاب الأیمان، ج: 3، ص: 712، ط: سعید)
فتاوی محمودیہ میں ہے۔
" محض قرآن مجیدہاتھ میں لےکرکہنےسےقسم نہیں ہوجاتی جب تک کہ لفظِ قسم نہ کہے۔"
(باب الأیمان ، ج: 14، ص: 41، ط: دارالإشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101666
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن