بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآنِ پاک پڑھتے وقت ہل ہل کر پڑھنے کا حکم، /ہوٹل میں اپنے شوہرکے ساتھ بغیر نقاب کے کھانا کھانے کا حکم /حیض کی حالت میں مہندی لگانے کا حکم /رخصتی کا مسنون طریقہ /بیٹی کو جہیز دینےکا حکم


سوال

1۔قرآنِ پاک پڑھتے وقت جو بچے اور بچیاں ہل ہل کر پڑھتے ہیں، تو کیا ہل ہل کر پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ حکم بتا دیجئے۔

2۔ہوٹل میں بیٹھ کر نقاب ہٹا کر عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت سے کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ حالانکہ شوہر عالم ہے اور یہ حکم دے رہا ہے کہ نقاب ہٹا دیجئے۔

3۔حیض کی حالت میں ہاتھوں پر مہندی اور ناخنوں پر عرق والی مہندی  لگانا جائز ہے یا نہیں؟

4۔قرآنِ پاک یا کوئی دینی کتاب پڑھانے پر اپنے پاس سے اس کی فیس یعنی رقم لینا جائز ہے یا نہیں۔

5۔رخصتی کرنے کا مسنون طریقہ بتا دیجئے، اور بیٹی کو جہیز یعنی فرنیچر اور کپڑے وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ حکم بتا دیجئے۔

جواب

1۔ جو بچے قرآن کریم یاد کرنے کےلیے ہل ہل کر پڑھتے ہیں ،اس میں شرعاًکوئی حرج نہیں ،ایسا کرنا زیادہ توجہ وانہماک کا باعث ہوتاہے۔

2۔ہوٹل میں عورت کے لیے شوہر کے ساتھ بیٹھ کر نقاب ہٹا کر کھانا کھانا اُس وقت جائز ہے جب وہاں کوئی نامحرم مرد موجود نہ ہو، یا اس بات کا مکمل اطمینان ہو کہ نامحرم کی نظر اس کے چہرے پر نہیں پڑے گی، تو ایسی صورت میں نقاب ہٹا کر کھانا کھانے کی گنجائش ہے۔

3۔حیض کی حالت میں ہاتھوں پر مہندی اور ناخنوں پر عرق والی مہندی  لگانا جائز ہے۔

4۔  قرآنِ کریم کی تعلیم دینے، حفظ و ناظرہ پڑھانے پر اجرت لینے کو متأخرینِ احناف نے بوجہ ضرورت جائز قرار دیا ہے، یہ کیوں کہ اجرت اصل میں قرآن پڑھانے کی نہیں ہوتی، بلکہ ان کاموں کے لیے  اپنے آپ کو محبوس  اور دیگر کاموں سے فارغ رکھ کر وقت دینے کی ہوتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے بچوں کو قرآن کریم یا کوئی دینی کتاب پڑھاتا ہے، اور وقت دینے کے عوض اجرت کا مطالبہ کرتاہے تو محنت و وقت کے عوض  اجرت لینا جائز ہوگا۔

5۔نکاح اورخصتی کابہترطریقہ یہ ہے کہ مسجد میں نکاح کیا جائے، نکاح کے بعد چھوارے تقسیم کیے جائیں، یہ سنت ہے، پھر نکاح کے بعد   لڑکی کو اس کے محارم کے ذریعے دولہا کے گھر پہنچا دیا جائے اور اگر خود دولہا  اور اس کے گھر والے جا کر دلہن کو لے آئیں تو یہ بھی جائز ہے ،اس میں بھی شرعاً  کوئی حرج نہیں۔ 

باپ اپنی خوشی سے بیٹی کو رخصتی کے وقت اپنی حیثیت کے مطابق اگر کچھ ضرورت کا سامان دینا چاہے تو شرعاً جائز ہے۔ رسول کریم ﷺ نے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رخصت کرتےہوئے انہیں  اس وقت کی ضرورت کےمطابق ،بستر،چکی ،دیگر سامان دیا تھا،پس شوہر کی جانب سے جہیز کا مطالبہ کرنا جائز نہیں،البتہ والدین  اپنی خوشی سے جو جائز سازوسامان دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔

یسی صورت میں بچی کے لیے جہیز لینا جائز ہے، اور بچی ہی جہیز کے سامان کی مالک ہوگی۔

 سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن معاذة أن امرأة سألت عائشة، قالت: ‌تختضب ‌الحائض، فقالت: «قد كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم ونحن نختضب، فلم يكن ينهانا عنه»."

(كتاب الطهارة، باب الحائض تختضب، 215/1، ط: دار إحياء الكتب العربية)

ترجمہ:"حضرت معاذہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت مہندی لگا سکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (ماہواری کے ایام میں)مہندی لگایاکرتی تھیں، لیکن آپ ہمیں منع نہیں فرماتے تھے۔"

سنن النسائی میں ہے:

"عن علي، رضي الله عنه قال: جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة في خميل وقربة ووسادة حشوها إذخر."

(کتاب النکاح، جهاز الرجل ابنته ، جلد : 6 ،  صفحه : 135، طبع : مکتب المطبوعات الاسلامیة)

ترجمہ:"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں ایک پلو دار چادر، ایک مشکیزہ اور ایک تکیہ دیا تھا جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی"

فتاوی محمودیہ میں ہے:

سوال:تلاوت یاکلام پاک یاکتب حدیث پڑھتے وقت سرہلانا کیساہے؟

جواب:یہ شرعی حکم نہیں طبعی چیز ہے بعض ہلاتے ہیں بعض نہیں ۔فقط واللہ اعلم

( باب مایتعلق بالقرآن،ج:3،ص:561،ط:دارالافتاء جامعہ فاروقیہ)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

”عورتوں کے خاص ایام میں مہندی لگانا شرعاً جائز ہے، اور یہ خیال غلط ہے کہ ایام میں مہندی ناپاک ہوجاتی ہے“۔

(حیض ونفاس کا بیان، ج: 3، ص: 141، ط: مکتبہ لدھیانوی)

امداد الاحکام میں ہے:

"باپ کا اپنی لڑکی کو نکاح کے وقت جہیز دینا سنتِ نبویہ سے ثابت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کو شادی کے وقت جہیز دیا ہے۔"

(کتاب النکاح، جلد : 2، صفحہ: 371، طبع: مکتبہ دار العلوم، کراچی)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"‌‌اختضاب الحائض:

 جمهور الفقهاء على جواز اختضاب الحائض لما ورد أن امرأة سألت عائشة - رضي الله عنها - قالت: ‌تختضب ‌الحائض؟ فقالت: قد كنا عند النبي - صلى الله عليه وسلم - ونحن نختضب فلم يكن ينهانا عنه،  ولما ورد أن نساء ابن عمر كن يختضبن وهن حيض."

(حرف الألف، اختضاب، اختضاب الحائض، 283/3، ط: دار السلاسل)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان."

"(قوله ‌ولا ‌لأجل ‌الطاعات) الأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليها عندنا لقوله عليه الصلاة والسلام اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به وفي آخر ما عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عمرو بن العاص «وإن اتخذت مؤذنا فلا تأخذ على الأذان أجرا ولأن القربة متى حصلت وقعت على العامل ولهذا تتعين أهليته، فلا يجوز له أخذ الأجرة من غيره كما في الصوم والصلاة هداية. مطلب تحرير مهم في عدم جواز الاستئجار على التلاوة والتهليل ونحوه مما لا ضرورة إليه."

"(قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضا في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار."

(‌‌كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في الاستئجار على الطاعات، ج:6، ص:55، ط:سعيد)

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق" میں ہے:

"قال رحمه الله (‌والفتوى ‌اليوم ‌على ‌جواز الاستئجار لتعليم القرآن) ، وهذا مذهب المتأخرين من مشايخ بلخ استحسنوا ذلك وقالوا بنى أصحابنا المتقدمون الجواب على ما شاهدوا من قلة الحفاظ ورغبة الناس فيهم؛ ولأن الحفاظ والمعلمين كان لهم عطايا في بيت المال وافتقادات من المتعلمين في مجازات التعليم من غير شرط، وهذا الزمان قل ذلك واشتغل الحفاظ بمعائشهم فلو لم يفتح لهم باب التعليم بالأجر لذهب القرآن فأفتوا بالجواز، والأحكام تختلف باختلاف الزمان."

(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، أخذ أجرة الحجام، ج:8، ص:22، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101876

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں