
اگر کوئی شخص قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائے اور پھر وہ قسم توڑ دے تو امام ابو حنیفہ -رحمہ اللہ- کے نزدیک کیا حکم ہوگا؟
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے قرآن پر ہاتھ رکھ کرقسم کے الفاظ کہے ہوں کہ: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں یا میں قرآن کی قسم کھاتا ہوں یا میں قسم کھاتا ہوں کہ فلاں کام نہیں کروں گا، تو اس پر قسم توڑنے کا کفارہ دیلازم ہوگا اور اگر ان الفاظ کے ساتھ قسم نہیں کھائی تھی، بلکہ صرف قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر یہ کہا تھا کہ: میں یہ کام نہیں کروں گا، تو اس صورت میں اس پر کفارہ نہیں ہے۔
امام ابوحنیفہ -رحمہ اللہ- کے نزدیک قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اگر مالی استطاعت ہے تو ایک غلام آزاد کرے (موجودہ زمانے میں غلاموں کا سلسلہ نہیں ہے، لہذا یہ صورت عملا موجود نہیں ہے)یا دس غریبوں کو کپڑوں کا جوڑا دے، یا دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر کے برابر رقم دے دے، یا ایک ہی مسکین کو دس دن تک دو وقت کا کھانا کھلائے یا اسے دس دن تک روزانہ ایک صدقہ فطر کی رقم دیتارہے، اور اگر اتنی استطاعت نہ ہو تو پھر لگاتار تین دن روزے رکھے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وقال العيني: وعندي أن المصحف يمين لا سيما في زماننا.
في الرد: (قوله وقال العيني إلخ) عبارته: وعندي لو حلف بالمصحف أو وضع يده عليه وقال: وحق هذا فهو يمين ولا سيما في هذا الزمان الذي كثرت فيه الأيمان الفاجرة ورغبة العوام في الحلف بالمصحف اهـ وأقره في النهر. وفيه نظر ظاهر إذ المصحف ليس صفة لله تعالى حتى يعتبر فيه العرف وإلا لكان الحلف بالنبي والكعبة يمينا لأنه متعارف، وكذا بحياة رأسك ونحوه ولم يقل به أحد. على أن قول الحالف وحق الله ليس بيمين كما يأتي تحقيقه، وحق المصحف مثله بالأولى، وكذا وحق كلام الله لأن حقه تعظيمه والعمل به وذلك صفة العبد، نعم لو قال أقسم بما في هذا المصحف من كلام الله تعالى ينبغي أن يكون يمينا.
(كتاب الأيمان، ج: 3، ص: 713، ط: دار الفکر)
وفیہ ایضا:
"(وكفارته)...(تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين)... (أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و (يستر عامة البدن)...(وإن عجز عنها) كلها (وقت الأداء)....(صام ثلاثة أيام ولاء).
في الرد: قوله عشرة مساكين) أي تحقيقا أو تقديرا، حتى لو أعطى مسكينا واحدا في عشرة أيام كل يوم نصف صاع يجوز...ولو غدى مسكينا وأعطاه قيمة العشاء أجزأه، وكذا إذا فعله في عشرة مساكين."
(كتاب الأيمان، ج: 3، ص: 725-727، ط: دار الفکر)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"محض قرآن مجید ہاتھ میں لے کربات کہنے سے قسم نہیں ہوجاتی،جب تک لفظِ قسم نہ کہے۔"
(کتاب الایمان، ج:14،ص:42،ط: ادارہ الفاروق کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101108
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن